1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں امریکی فوجیوں کی جانیں بچانے کا نیا سامان

امریکہ نے افغانستان میں متعینہ اپنے فوجیوں کے لئے تین ارب ڈالر مالیت کا ایسا سامان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جو ان کی جانیں بچانے کے کام آئے گا۔

default

مغربی دُنیا گزشتہ کچھ عرصے سے افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافے سے پریشان ہے۔ ان میں سے بیشتر ہلاکتیں سڑک کے کنارے نصب دیسی ساختہ بموں سے ہوئی ہیں۔ رواں سال اب تک 340 سے زائد غیر ملکی فوجی مارے جا چکے ہیں، جن میں ایک سو سے زائد گزشتہ ماہ مارے گئے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ بم امونیم نائٹریٹ سے یہ بم بنائے جاتے ہیں، جو پاکستان میں کھاد کے طور پر زراعت کے شعبے میں استعمال ہوتی ہے۔

امریکی نائب وزیر دفاع برائے ٹیکنالوجی اور لوجسٹک ایشٹن کارٹر کے بقول نئے سامان میں نئی بکتر بند گاڑیاں اور بارودی سرنگوں کا کھوج لگانے والے روبوٹس بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سامان اور بم ناکارہ بنانے والے ایک ہزار ماہرین، جاسوس اور سیکیورٹی اہلکار اگلے ماہ جنگ زدہ ملک پہنچ جائیں گے۔

Anschläge Friedens-Dschirga in Kabul Afghanistan Flash-Galerie

افغان آرمی اور پولیس کے دستے ابھی مکمل طور پر امن امان کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل نہیں ہوئے

امریکی نائب وزیر نے واضح کیا کہ یہ نیا سامان افغان اور اتحادی فورسز کے ساتھ مل کر استعمال کیا جائےگا۔

اب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ افغان آرمی کو طالبان عسکریت پسندوں پر قابو پانے کے لئے سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کے جنگجوؤں کی معاونت بھی حاصل ہو چکی ہے۔ یہ سابق حکومت مخالف گروہ ملک کے شمالی صوبوں بغلان اور قندوز میں طالبان کے سرکردہ کمانڈوں کی سرگرمیوں سے افغان آرمی کو مطلع رکھتا ہے۔

شمالی افغانستان میں ملکی فوج کےکمانڈر مراد علی مراد کے بقول معلومات کے تبادلے کا یہ سلسلہ بہت اچھے طریقے سے چل رہا ہے اور بہت کامیاب ہے۔

Afghanistan Nordallianz Kämpfer im Gegenlicht

حکومتی ذرائع کے مطابق حزب اسلامی کے جنگجو حکومت کو طالبان کی سرگرمیوں سے آگاہ رکھتے ہیں

حزب اسلامی کا شمار پہلے حکومت مخالف تین بڑے گروہوں میں ہوتا تھا۔ ان میں سے دو یعنی جنوب و مشرقی افغانستان میں حقانی گروپ اور جنوب میں طالبان اب بھی حکومت کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ طالبان اور حزب اسلامی میں اس بنیاد پر اختلاف ہے کہ طالبان اس وقت تک کابل حکومت سے مذاکرات کے حق میں نہیں جب تک کہ غیر ملکی فوجی افغانستان سے چلے نہیں جاتے۔ حزب اسلامی کا مؤقف ہے کہ اگر غیر ملکی فوج کے انخلاء کا ٹائم ٹیبل واضح کر دیا جائے تو وہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

شمالی افغانستان میں اتحادی افواج کی کمان پہلے محض جرمن فوج تک محدود تھی۔ جرمن قانون کے مطابق ان کی افواج جارحانہ رویہ اختیار کر کے کسی پر حملہ آور نہیں ہوسکتیں اور اسی نکتے کو شمال میں عسکریت پسندی کے پنپنے کی وجہ سمجھا جا رہا تھا۔ اب البتہ علاقے میں امریکی افواج بھی آ چکی ہیں، جو عسکریت پسندوں کے خلاف زیادہ سرگرمی سے کارروائیاں کر رہی ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM