1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد کم ہوگی یا نہیں ؟

ایک اعلیٰ امریکی سفارتکار نے کہا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد کو نصف کرنے کا فیصلہ اگلے ماہ ہونے والی نیٹو سمٹ سے قبل نہیں کریں گے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا سربراہی اجلاس اگلے ماہ پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ہونا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ صدر اوباما افغانستان میں اپنی افواج کو کم کر نے کا فیصلہ اس سمٹ سے قبل یا پھر اس سمٹ کے موقع پر ہی کریں گے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں 9800 امریکی فوجی تعینات ہیں۔

امریکی وزیر برائے دفاع ایشٹن کارٹر آج برسلز میں نیٹو کے رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے افغانستان کے حوالے سے ملاقات کر رہے ہیں۔ افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد کو کم کرنے کے فیصلے میں تاخیر کی ایک وجہ نیٹو ممالک کو افغانستان میں اپنی افواج کو تعینات رکھنے کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی حکومت ملک میں طالبان کے خلاف لڑ رہی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے طالبان کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکا کے اتحادی ممالک موجودہ حالات میں افغانستان سے اپنی افواج کو کم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ نیٹو کے اس فیصلے سے امریکا کو افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد کے حوالے سے فیصلہ کرنے کے لیے وقت مل گیا ہے۔ روئٹرز کو ایک امریکی سفارت کار نے انٹرویو میں بتایا، ’’ہمارے لیے یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ امریکا کے نیٹو اتحادی ممالک اس وقت افغانستان سے اپنی افواج کو کم کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے اور کچھ ممالک تو اپنی افواج کو بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔‘‘

Polen Militärmanöver Anakonda mit Nato-Staaten

گزشتہ ہفتےاوباما نے امریکی افواج کوافغان دستوں سے عسکری تعاون کو مزید بڑھانے اور مل کر فضائی حملے کرنے کی بھی منظوری دی تھی

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیٹو اجلاس میں افغانستان ایک اہم موضوع ہو گا اور یہ ممکن ہے کہ امریکی صدر سمٹ کے دوران افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد کے حوالے سے کسی فیصلے کا اعلان کر دیں۔

وائٹ ہاؤس کو اب تک افغانستان کے کمانڈر جنرل جان نکولسن کی جانب سے کوئی تجاویز موصول نہیں ہوئی ہیں۔ گزشتہ ہفتےاوباما نے امریکی افواج کوافغان دستوں سے عسکری تعاون کو مزید بڑھانے اور مل کر فضائی حملے کرنے کی بھی منظوری دی تھی۔

افغانستان میں سابق کمانڈروں اور سابق سفارتکاروں نے صدر اوباما کو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کو دس ہزار ہی برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے۔ ان کی رائے میں افواج کی تعداد کو کم کر کے 5500 کر دینے سے افغان حکومت کے حوصلے پست ہو سکتے ہیں، جس سے طالبان مزید مضبوط ہوں گے۔

DW.COM