1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں امریکہ نے موقع کھو دیا، سابق سعودی انٹیلیجنس چیف

سعودی شہزادے ترکی الفیصل کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکہ کو چاہیے تھا کہ وہ افغانستان سے فوری طور پر اپنی فوجیں واپس بلا لیتا۔

default

بن لادن کو پاکستان میں ہلاک کیا گیا

شہزادہ ترکی الفیصل سعودی حکومت کے سابق انٹیلیجنس چیف اور امریکہ اور برطانیہ کے لیے سفیر رہ چکے ہیں۔ بدھ کے روز الفیصل کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے پاس ایک اچھا موقع تھا کہ وہ افغانستان میں فتح کا اعلان کر کے فوری طور پر وہاں سے رخصت ہو جاتا، مگر اس نے یہ موقع ضائع کر دیا۔ خیال رہے کہ بن لادن کو امسال دو مئی کو امریکی اسپیشل فورسز نے پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔

بدھ کے روز واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الفیصل نے کہا کہ صدر اوباما کی انتظامیہ کو اسامہ کے قتل کا جو کریڈٹ ملنا چاہیے تھا وہ اس کو نہیں ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف اس بات کا کریڈٹ انہیں دنیا بھر سے نہ مل سکا بلکہ خود امریکہ میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے۔

NO FLASH Afghanistan Armee Soldat

افغانستان کی سکیورٹی ذمہ داریاں افغان افواج کو منتقل کی جا رہی ہیں

ان کا کہنا تھا، ’’اسامہ کی ہلاکت ایک بہترین موقع تھا، جب آپ کے صدر یہ کہتے کہ ’ہم نے کر دکھایا ہے اور اب ہم افغانستان کو خیرباد کہتے ہیں‘‘

سعودی عرب کی انٹیلیجنس کے سربراہ کی حیثیت سے الفیصل انیس سو اسی سے اسامہ بن لادن کی حرکات و سکنات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اس وقت بن لادن سوویت افواج کے خلاف ’افغان جہاد‘ میں مصروف تھا۔ الفیصل کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دہشت گردانہ حملوں سے چند برس قبل ان کا بن لادن کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما افغانستان سے امریکی افواج کے مرحلہ وار انخلاء کا اعلان کر چکے ہیں اور امریکی افواج کی ایک اچھی خاصی تعداد اگلے برس موسم گرما تک افغانستان سے رخصت ہو جائے گی۔ نیٹو افواج ملکی سکیورٹی کے انتظامات افغان افواج کو منتقل کر رہی ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

 

DW.COM