1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں القاعدہ کا دوسرا سب سے بڑا لیڈر ہلاک

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے افغانستان میں القاعدہ کے دوسرے سب سے بڑے لیڈر ابو حفص النجدی المعروف عبد الغنی کو ہلاک کردینے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹو کے مطابق پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبے کُنڑ میں یہ کارروائی کی گئی ہے۔

default

پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے القاعدہ کے وقاص نامی عسکریت پسند کی بھی اس آپریشن میں ہلاکت کی اطلاع ہے۔ امریکی سربراہی میں افغانستان متعین ’سلامتی کی بین الاقوامی فورس‘ آئی سیف کے مطابق عبد الغنی 13 اپریل کو کی گئی ایک فضائی کارروائی میں مارا گیا تھا۔ اس عرب عسکریت پسند کی ہلاکت کی تصدیق قریب دو ہفتے بعد منگل 26 اپریل کو کی گئی ہے۔

ایک بیان کے مطابق اس عسکریت پسند نے متعدد بڑی دہشت گردانہ کارروائیاں ترتیب دی تھیں اور گزشتہ چار سال سے اس کا پیچھا کیا جارہا تھا۔ افغانستان متعین غیر ملکی فوج کے ایک ترجمان میجر مائیکل جانسن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے سے بات چیت میں کہا کہ فی الحال ان کارروائیوں کی تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتیں جو عبد الغنی کی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی تھیں۔ میجر مائیکل نے اس راز داری کی وجہ سلامتی سے جڑے امور کو قرار دیا۔

سعودی عرب کو مطلوب افراد کی فہرست میں بھی ابو حفص النجدی نامی دہشت گرد کا نام موجود ہے۔ اس بارے میں سعودی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر موجود 85 ناموں میں سے 25واں نام اسی عسکریت پسند کا ہے۔ آئی سیف کے مطابق یہ عکسریت پسند کُنڑ سے اپنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتا تھا اور اکثر اوقات افغانستان سے متصل پاکستانی قبائلی علاقوں میں بھی جایا کرتا تھا۔

Hunderte Taliban entkommen aus Gefängnis

گزشتہ روز قندہار کی جیل سے سینکڑوں عسکریت پسند فرار ہوگئے تھے

اس پر علاقے میں شدت پسندوں کو تربیت دینے اور مالی و عسکری وسائل فراہم کرنے کے الزامات بھی عائد ہیں۔ حکام کے مطابق کُنڑ میں کابل حکومت کے حامی رہنما ملک زرین سمیت نو شہریوں کی حالیہ ہلاکت کا ذمہ دار بھی یہی عرب عسکریت پسند تھا۔ اس حملے میں بچے بھی مارے گئے تھے۔

امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے مطابق بعض قبائلی علاقوں سے غیر ملکی فوج کی واپسی کے بعد یہاں القاعدہ کے عسکریت پسند دوبارہ فعال ہونے لگے ہیں۔ نیٹو کی جانب سے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ اس کی فوج نے گزشتہ ماہ افغانستان میں دو درجن سے زائد القاعدہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ آئی سیف کے اندازے کے مطابق شورش زدہ افغانستان میں اب بھی القاعدہ کے لگ بھگ ڈیڑھ سو غیر ملکی عسکریت پسند فعال ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM