1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں القاعدہ کا انتہائی اہم لیڈر ہلاک

افغانستان میں امریکی فوج کے مطابق ایک خصوصی آپریشن میں القاعدہ کے ایک انتہائی اہم کمانڈر کو مار دیا گیا ہے۔ افغان فوج نے گزشتہ اختتام ہفتہ پر بھی طالبان کی اسپیشل فورسز کے کمانڈر کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

 امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عمر خطاب برصغیر پاک و ہند اور افغانستان میں القاعدہ نیٹ ورک کا دوسرا اہم ترین رہنما تھا۔ اس کی ہلاکت کی تصدیق منگل پانچ دسمبر کی شام جاری ہونے والے ایک بیان میں کی گئی۔

افغانستان میں امریکی فوج کی کمانڈ کے بیان میں کہا گیا کہ عمر خطاب افغانستان میں مقامی فوج اور غیر ملکی افواج پر براہ راست ملوث تھا۔ اس بیان کے مطابق اُسی کی ہدایت پر طالبان نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال شروع کیا۔ القاعدہ کے لیڈر نے افغان طالبان کے عسکریت پسندوں کو راکٹ اور مارٹر گولے داغنے کی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ شبینہ حملوں کی بھی ضروری معلومات اور تربیت دی تھی۔

امریکا کی عالمی طاقت کے زوال میں القاعدہ کا کردار

طالبان کی ’اسپیشل فورسز‘ کا کمانڈر ہلاک

تورا بورا کا علاقہ داعش سے واپس لے لیا، افغان حکام

افغانستان میں جنگی جرائم کا ارتکاب، تفتیش شروع کی جائے

عمر خطاب کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن کا کہنا تھا کہ حالیہ ایام میں افغان فوج کی کارروائیوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُس کے حوصلے بلند ہیں اور گزشتہ ایک برس کے دوران یہ فوج مسلسل اپنی کارکردگی میں بہتری لاتی جا رہی ہے۔

عمر خطاب کی ہلاکت سے ایک دن قبل امریکی فوج نے طالبان کی اسپیشل فورسز کے کمانڈر ملا شاہ ولی عرب ملا نصیر کے مارے جانے کی تصدیق بھی کی تھی۔ طالبان کی اسپیشل فورسز کو ’ریڈ یونٹ‘ کہا جاتا ہے۔ ملا شاہ ولی کی ہلاکت یکم دسمبر کو جنوبی افغان صوبے ہلمند میں ایک فضائی حملے کے دوران ہوئی تھی۔

Afghanistan neuer Nato-Oberbefehlshaber General John Nicholson (Reuters/R. Gul)

امریکی جنرل جان نکلسن کا کہنا ہے کہ افغان فوج کے حوصلے بلند ہیں اور گزشتہ ایک برس کے دوران فوج مسلسل اپنی کارکردگی میں بہتری لاتی جا رہی ہے

ملا شاہ ولی کی ہلاکت کا باضابطہ اعلان افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس نے کیا تھا۔ اس طالبان کمانڈر کو اس کے تین ساتھیوں سمیت نشانہ بنایا گیا تھا۔ امریکی فوج کے ترجمان نے بھی اس کارروائی کے بعد کہا تھا کہ طالبان لیڈر کئی خونی حملوں میں براہِ راست ملوث رہا تھا۔

یہ امر اہم ہے کہ ہلمند صوبے کے چودہ اضلاع کا کنٹرول طالبان کے پاس ہے۔ دوسری جانب رواں برس نومبر کے اختتام سے امریکی فوج ہلمند میں ہیروئن کی فیکٹریوں کو بھی تواتر سے نشانہ بنا رہی ہے۔

DW.COM