1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان میں افیم کی کاشت پر روس کی بڑھتی تشویش

روس نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ افغانستان متعین نیٹو افواج وہاں افیم کی کاشت اور اسمگلنگ کی روک تھام میں ناکام ہیں۔

default

افغانستان پوست کی کاشت کے حوالے سے سر فہرست ہے، جس سے ہیروئن تیار کی جاتی ہے۔ روس کا الزام ہے کہ نیٹو افواج پوست کےکھیتوں کو تباہ نہیں کررہے بلکہ کسانوں کو معاوضہ دے کر ان سے فصلوں کو تلف کرنےکا کہتے ہیں۔ یہ بات روس کی سرحدی فورس کے سربراہ Vladimir Pronichev نے تاجکستان میں سلامتی سے متعلق اجلاس کے موقع پر کہی۔ دوشنبے میں منعقدہ اس اجلاس کے موقع پرPronichev نے بتایا کہ انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ نیٹو کے انسداد دہشت گردی آپریشن کے مقاصد کیا ہیں۔ روس اس سے قبل بھی اس سلسلے میں نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی منڈی میں افغانستان میں تیار شدہ منشیات کی مالیت 65 ارب ڈالر لگائی جاتی ہے جبکہ دنیا میں اندازاً 15کروڑ افراد اس منشیات کی لت میں مبتلا بتائے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال جاری کی گئی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس منشیات کا نصف حصہ یورپ، روس اور ایران میں استعمال کر لیا جاتا ہے۔

Bildgalerie Ursachen von Armut: Drogen

روس کی نیٹو پر مسلسل تنقید کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ماسکو حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق روس میں منشیات کے عادی 30 ہزار نوجوان ہر سال ہلاک ہوجاتے ہیں۔ نیٹو کے لئے روسی مندوبDmitry Rogozin نےگزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ افغانستان میں افیم کی کاشت تلف کرنے کی جانب نیٹو اور امریکہ کی عدم توجہ کے سبب بہت زیادہ غیر مطمئن ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان میں اس کی کاشت کا رواج سابقہ سوویت یونین کے حملے کے بعد ہی فروغ پایا تھا۔ سوویت فوج نے افغانستان میں آب پاشی کے ذرائع جیسے کاریز اور کینال وغیر کو تباہ وبرباد کیا، جس کے بعد کسانوں نے کم پانی سے زیادہ منافع بخش فصل کے طور پر افیم کی کاشت کو ترجیح دینا شروع کر رکھا ہے۔

2008 تا 2009 کے دوران افغانستان میں 10 ہزار ایکڑ پر افیم کی کاشت کو تلف کیا گیا جبکہ اس سے قبل 2007 میں 19 ہزار جبکہ 2006 میں 15 ہزار ایکڑ رقبے پر افیم کی کاشت تلف کی گئی تھی۔

Mohnanbau in Afghanistan

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک 2002 سے اب تک انسداد منشیات کے سلسلے میں ایک ارب ڈالر سے زائد خرچ کرچکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی کے تحت منشیات کے اسمگلروں اور اس ناجائز کاروبار سے زیادہ منافع کمانے والوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ناکہ عام کسانوں کو۔ روس البتہ سخت ترین اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے فضائی سپرے کرنے کا مطالبہ کررہا ہے جس سے افیم کے علاہ دیگر فصلوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کو بھی نقصان پہنچنے کا ڈر ہے۔ ماضی میں کولمبیا اور برما میں اس نوعیت کے فضائی سپرے سے پانی اور کھیت شدید متاثر ہوئے اور دیہاتوں میں بیماریاں پھیلی تھی۔ افغان اور نیٹو حکام افیم کے کھیتوں پر سپرے کے عمل کی مخالفت کرتے ہوئے دیگر ذرائع تلاش کررہے ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM