1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان ميں گزشتہ برس کتنے افراد ہلاک ہوئے؟

سن 2015 بھی افغانستان کے ليے کافی خون ريز سال ثابت ہوا۔ گزشتہ برس مختلف پُر تشدد واقعات ميں ہلاک يا زخمی والے شہريوں کی تعداد گيارہ ہزار سے زائد رہی جو متاثرين کے حوالے سے ايک نيا ريکارڈ ہے۔

افغانستان ميں گزشتہ برس مجموعی طور پر 11,002 شہری پُر تشدد واقعات سے براہ راست متاثر ہوئے۔ کُل 3,545 شہری حملوں اور ديگر واقعات ميں ہلاک ہوئے جب کہ 7,457 سويلين زخمی بھی ہوئے۔ يہ اعداد و شمار اتوار چودہ فروری کو جاری کردہ اقوام متحدہ کی ايک تازہ رپورٹ ميں کيے گئے ہيں۔

سن 2015 ميں ہونے والی سويلين ہلاکتوں کا موازنہ اگر سن 2014 سے کيا جائے تو ہلاکتوں کی تعداد ميں معمولی چار فيصد کی کمی ريکارڈ کی گئی۔ ليکن اسی دوران شہريوں کے زخمی ہونے کے واقعات ميں نو فيصد کا اضافہ بھی ريکارڈ کيا گيا ہے۔ افغانستان ميں اقوام متحدہ کے ’اسسٹنس مشن‘ (UNAMA) کے مطابق سن 2009 سے لے کر اب تک، سن 2015 ميں سب سے زيادہ تعداد ميں سويلينز کے زخمی ہونے يا ہلاک ہونے کے واقعات رونما ہوئے۔

رپورٹ ميں يہ بھی بتايا گيا ہے کہ گزشتہ برس جنگ سے متاثرہ شہريوں کی مجموعی تعداد ميں دس فيصد خواتين تھيں۔ ان اعداد و شمار کا اگر سن 2014 سے موازنہ کيا جائے تو خواتين کے ہلاک يا زخمی ہونے کے واقعات ميں سينتيس فيصد کا اضافہ ريکارڈ کيا گيا۔ اسی طرح بچوں کی ہلاکت يا زخمی ہونے کے واقعات بھی چودہ فيصد اضافے کے ساتھ گزشتہ برس پچيس فيصد تک پہنچ گئے، يعنی گيارہ ہزار سے زائد کی تعداد ميں پچيس فيصد حصہ بچوں پر مشتمل ہے۔

سن 2015 ميں ہونے والی سويلين ہلاکتوں کا موازنہ اگر سن 2014 سے کيا جائے تو ہلاکتوں کی تعداد ميں معمولی چار فيصد کی کمی ريکارڈ کی گئی

سن 2015 ميں ہونے والی سويلين ہلاکتوں کا موازنہ اگر سن 2014 سے کيا جائے تو ہلاکتوں کی تعداد ميں معمولی چار فيصد کی کمی ريکارڈ کی گئی

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق زيادہ تر متاثرين فائرنگ کے تبادلے ميں زخمی يا ہلاک ہوئے۔ ’پروٹيکشن آف سويلينز ان آرمڈ کنفلکٹ‘ کے عنوان تلے شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق شہريوں کی ہلاکت يا زخمی ہونے کے باسٹھ فيصد واقعات حکومت مخالف کارروائيوں ميں ہوئے، جن ميں افغان طالبان کے حملے بھی شامل تھے۔ سترہ فيصد ہلاکتيں حکومت نواز افواج کی کارروائيوں کے نتيجے ميں ہوئيں جب کہ بين الاقوامی افواج صرف دو فيصد ايسے واقعات کی ذمے دار قرار پائيں۔ رپورٹ کے نتائج ميں يہ بھی سامنے آيا ہے کہ سن 2015 کے دوران سويلين ہلاکتوں کی سب سےبڑی وجہ شہری اور گنجان آباد علاقوں ميں حملے اور مسلح کارروائياں رہيں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے افغانستان نکولاس ہيسم کے مطابق شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات قطعی نامنظور ہيں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم افغانستان ميں عوام کو تکليف پہنچانے والے تمام فريقوں پر زور ديتے ہيں کہ سويلينز کی حفاظت اور ان کی جانوں کے ضياع سے بچنے کے ليے تمام تر اقدامات کيے جائيں۔‘‘