1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان ميں طالبان کے ليے محفوظ زون؟

افغانستان ميں سالہا سال سے جاری پر تشدد واقعات اور جنگ کے خاتمے کے ليے حکام طالبان عسکريت پسندوں کے ليے ’سيف زونز‘ يا محفوظ مقامات کے قيام پر زور دے رہے ہيں۔ کابل حکومت البتہ ايسی خبروں کو رد کرتی ہے۔

افغان صوبے قندھار کی پوليس کے سربراہ عبدالرازق نے گزشتہ ماہ منعقدہ ہونے والے مذہبی رہنماؤں کے  ايک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ميں طالبان پر زور ديتا ہوں کہ وہ واپس افغانستان آئيں، ہميں ان کے اور ان کے اہل خانہ کے ليے ايسے مخصوص علاقے مختص کرنے ہوں گے، جہاں انہيں کوئی خطرہ نہ ہو۔‘‘ اس موقع پر رازق کا مزيد کہنا تھا کہ افغانستان ميں جنگ کے خاتمے کے ليے غير ملکی حکومتوں اور سفارت خانوں پر مزيد انحصار نہيں کيا جا سکتا۔ قندھار پوليس چيف نے مزيد کہا ’’طالبان اس ملک کا حصہ ہيں، وہ اسی سرزمين کے بيٹے ہيں،‘‘

در اصل ايسے منصوبے پندرہ سالہ طالبان بغاوت اور اس دوران رونما ہونے والے سينکڑوں پر تشدد واقعات کی روک تھام کے معاملے ميں افغان حکام کی بے بسی اور مايوسی کی عکاسی کرتے ہيں۔ قيام امن کی ان گنت کوششيں، امريکی و مقامی افواج کی ريکارڈ تعداد ميں ہلاکتوں، بنيادی ڈھانچے کی تباہی اور ديگر اسباب سے تھک ہار کر اب افغان حکام کسی غير معمولی حل کی تلاش ميں ہيں۔ اگر ايسے منصوبوں کو عملی جامعہ پہنا ديا جاتا ہے، تو يہ نہ صرف افغان طالبان پر پاکستان کے مبينہ اثر و رسوخ کو محدود کرنے ميں معاون بلکہ دير پا امن کے قيام کے ليے بھی ايک بڑی اميد ثابت ہو سکتا ہے۔

فرانسيسی خبر رساں ادارے اے ايف پی نے افغان صوبے قندھار کی پوليس کے سربراہ عبدالرازق سے انٹرويو کی درخواست کی تاہم فوری طور پر انہوں نے اس کا کوئی جواب نہيں ديا۔ البتہ ايک اور سينیئر اہلکار نے بتايا کہ کابل حکومت افغان طالبان کو پاکستان سے واپس افغانستان لانا چاہتی ہے۔ اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر اس نے بتايا، ’’ہم ان کے ليے علاقہ مختص کر ديں گے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ آ کر وہاں قيام کر سکيں۔ پھر چاہے وہ لڑنا چاہيں يا امن سے رہنا، کم از کم ان پر سے پاکستان کا اثر و رسوخ ختم ہو سکے گا۔‘‘

نيوز ايجنسی اے ايف پی کے مطابق پاکستان نے سن 1990 کی دہائی ميں طالبان تحريک کی حمايت شروع کی تھی، جس کا مقصد علاقائی سطح پر روايتی حريف ملک بھارت سے آگے نکلنا تھا۔ افغانستان ميں کئی حلقے اسے ملک ميں قيام امن کی راہ ميں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر ديکھتے ہيں۔ اسلام آباد حکومت پر ’دوہری پاليسی‘ کا الزام عرصہ دراز سے لگايا جا رہا ہے۔ کئی برس تک اس کی ترديد کے بعد سن 2006 ميں پہلی مرتبہ ايک اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے باقاعدہ يہ تسليم کيا کہ افغان طالبان کے ليے پاکستان ميں پناہ گاہيں دستياب ہيں۔ دوسری جانب يہ بھی حقيقت ہے کہ اسلام آباد حکومت پڑوسی ملک افغانستان ميں قيام امن کے ليے علاقائی سطح پر کئی کوششيں کر چکی ہے، خواہ وہ بے نتيجہ ہی رہيں۔

افغانستان ميں طالبان عسکريت پسندوں کے ليے سيف زونز کے قيام کی خبريں پچھلے دنوں چند خفيہ فوجی دستاويرات کے سامنے آنے کے بعد نمودار ہوئيں۔ کابل حکام نے ايسی خبروں کو رد کر ديا اور اس کی بھی ترديد کی کہ افغان طالبان کی ليڈرشپ کونسل یا کوئٹہ شوریٰ افغانستان منتقل ہو چکی ہے۔

DW.COM