افغانستان ميں بدامنی برقرار، لاکھوں شہری نقل مکانی پر مجبور | حالات حاضرہ | DW | 19.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان ميں بدامنی برقرار، لاکھوں شہری نقل مکانی پر مجبور

اقوام متحدہ کے مطابق اس سال افغانستان میں چار لاکھ سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اس کی وجہ وہاں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درميان کئی برس سے جاری لڑائی ہے، جو مزيد طول پکڑتی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر امداد سے متعلق ادارے کے مطابق صرف گزشتہ ہفتے ہی 12300 افراد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بے گھر ہو جانے والے رجسٹرڈ شہريوں کی تعداد کا 31 فیصد حصہ ان افراد پر مشتمل ہے، جنہوں نے اب تک ملک کے نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے شمال اور شمال مشرقی علاقوں میں اپنے گھروں کو خیر باد کہا۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ملک میں ایک بار پھر مسلح کارروائياں بڑھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر سے ملنے والی خبروں میں یہ تفصیلات بھی شامل ہیں کہ سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان ہونے والے تصادم میں کتنا جانی و مالی نقصان ہوا اور اس کے کيا اثرات برآمد ہوئے۔ مثلاً گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان کے متنازعہ علاقے سرے پُل سے سات ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اسی عرصہ میں افغانستان کے شمالی صوبوں ننگرہار اور کنڑ میں شدت پسند تنظيموں طالبان اور اسلامک اسٹیٹ کے درمیان مسلح تصادم کے باعث ساڑھے چار ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

ایک اندازے کے مطابق جنگ سے متاثرہ ملک افغانستان میں گزشتہ برس مجموعی طور پر چھ لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر گئے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق رواں برس بھی اب تک تقريباً ساڑھے چار لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

DW.COM