1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان ميں اضافی نيٹو فوجی تعينات کيے جائيں گے، اسٹولٹن برگ

نيٹو کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کے برسلز ميں آج ہونے والے اجلاس سے قبل سيکرٹری جنرل ينس اشٹولٹنبرگ نے بتايا کہ افغانستان ميں تعينات دستوں کی تعداد ميں اضافہ کيا جائے گا تاہم يہ دستے جنگی مشنوں ميں حصہ نہيں ليں گے۔

DW.COM

مغربی دفاعی اتحاد نيٹو کے سيکرٹری جنرل  ژینس اسٹولٹن برگ نے تصديق کر دی ہے کہ افغانستان ميں نيٹو کے اضافی دستے تعينات کيے جائيں گے۔ انہوں نے اس بارے ميں بيان بيلجيم کے دارالحکومت برسلز ميں آج ہونے والے نيٹو کے رکن ممالک کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے قبل ديا۔ اسٹولٹن برگ نے کہا، ’’ميں اس امر کی تصديق کر سکتا ہوں کہ ہم افغانستان ميں اپنی قوت بڑھائيں گے۔ اس سلسلے ميں پندرہ رکن ملک اضافی دستوں کی فراہمی پر رضامند ہو گئے ہيں۔‘‘

واضح رہے کہ مغربی دفاعی اتحاد نے سن 2014 ميں افغانستان سے انخلاء کے ساتھ ہی وہاں اپنا جنگی يا لڑاکا مشن ختم کر ديا تھا۔ اس کے بعد بھی وہاں نيٹو کے لگ بھگ ساڑھے تيرہ ہزار فوجی تعينات ہيں، جو افغان دستوں کو مشاورت اور تربيت فراہم کرتے ہيں۔

افغانستان ميں مزيد فوجی دستے تعينات کيے جانے کے بارے ميں جمعرات انتيس جون کو بات چيت کرتے ہوئے اسٹولٹن برگ نے مطلع کيا کہ يہ اضافی دستے تين چيزوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھيں گے۔ ان ميں افغان فضائيہ کے قيام ميں معاونت، افغان اسپيشل آپريشن فورسز کی تربيت اور مقامی قيادت اور متعلقہ اہلکاروں کی تربيت شامل ہيں۔ تاہم برسلز ميں گفتگو کرتے ہوئے نيٹو کے سيکرٹری جنرل نے واضح کيا کہ اضافی دستے لڑاکا مشنز کا حصہ نہيں بنيں گے۔ ايک سفارتی ذرائع کے مطابق اضافی تين ہزار فوجيوں کی تعيناتی زير غور ہے۔

قبل ازيں بدھ کو اسٹولٹن برگ نے يہ بھی بتايا تھا کہ نيٹو کے دفاعی بجٹ کو اس سال چھياليس بلين ڈالر يا موجودہ بجٹ کے 4.3 فيصد سے بڑھايا جا رہا ہے۔ يہ معاملہ نيٹو کے يورپی رکن ملکوں اور امريکا کے مابين تنازعے کا سبب بنا ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ نيٹو کے سربراہی اجلاس ميں امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نيٹو کے يورپی ارکان اور کينيڈا کو اس سلسلے ميں سخت تنقيد کا نشانہ بنايا تھا۔