1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان معدنی ذخائر ہونے کے باوجود غریب

گزشتہ دس برسوں کے دوران بین الاقوامی برادری کی جانب سے افغانستان کو بہت بڑے پیمانے پر مالی امداد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم اس کے باوجود اس ملک کا شمار دنیا کے دس غریب ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔

default

جنگ سے تباہ حال افغانستان میں اس وقت تعمیر و ترقی کے متعدد سرکاری اور غیر سرکاری منصوبے جاری ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ ایک دہائی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے لیکن پھر بھی افغانستان کے حالات میں وہ بہتری نہیں آئی، جس کی امید کی جا رہی تھی۔ عالمی بینک کے مطابق صرف گزشتہ برس کی امداد کا حجم 15.7ارب ڈالر بنتا ہے۔ ابتدا میں افغانستان کی اقتصادی ترقی نہ ہونے کے برابر تھی تاہم اب معاشی شعبے میں ترقی کی سطح نو فیصد سالانہ تک ہو گئی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس ترقی کی سب سے بڑی وجہ بیرونی امداد ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو افغانستان یقینی طور پر دیوالیہ ہو جاتا۔

Große Mineralien-Vorkommen in Afghanistan entdeckt

افغانستان میں ابھی حال ہی میں معدنیات کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے تھے

افغانستان کے موضوع پر اگلے ماہ کی پانچ تاریخ کو بون میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہونے جا رہی ہے۔ اس میں 2014ء میں غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد کی صورتحال پر بھی غور کیا جائے گا۔ عالمی برادری پہلے ہی کابل حکام کو یہ یقین دہانی کرا چکی ہے کہ فوجوں کے انخلاء کے بعد بھی مالی تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ اس حوالے سے عالمی بینک کا کہنا ہے کہ تجربے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بین الاقوامی دستوں کے انخلاء کے بعد شہری مقاصد کے لیے دی جانے والی امداد میں کمی آجائے گی۔ مزید یہ کہ اس سے صرف اقتصادی ترقی ہی متاثر نہیں ہو گی بلکہ افغانستان کی صورتحال غیر مستحکم بھی ہو سکتی ہے۔

عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی امداد کی وجہ سے افغانستان میں معیار زندگی بہتر ہوا ہے اور لوگوں کی اوسط آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اگر 6 فیصد سالانہ کی شرح سے معیشت ترقی کرتی رہی تو تنخواہیں دگنی ہونے میں 22 سال لگ جائیں گے۔ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بچوں کی اموات کی بات کی جائے تو ابھی بھی افغانستان دنیا بھر میں سرفہرست ہے اور اوسط عمر 48 سال ہے۔

اس حوالے سے متعدد افغان حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملک میں معدنی ذخائر کی تلاش کا کام شروع کیا جائے تا کہ غیر ملکی امداد سے چھٹکارا حاصل ہو سکے۔ افغانستان میں معدنی ذخائر کے وزیر وحید اللہ شھرانی کہتے ہیں کہ معدنی ذخائر اگر نکالے جائیں تو ان کی مالیت تین کھرب ڈالر بنتی ہے۔ایک سرکاری ملازم نے کہا کہ خود کفیل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ معدنی ذخائر کو نکالنے کا کام شروع کیا جائے۔’’ہم سونے کی کان پر بیٹھےہوئے ہیں اور پھر بھی غریب ہیں‘‘۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : حماد کیانی

DW.COM