1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان مشن کی جلد تکمیل چاہتے ہیں : اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے بارے میں مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے جلد ہی حتمی فیصلہ کر لیں گے۔ اوباما نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ وہ ذاتی طور پر افغان فوجی مشن کا اختتام چاہتے ہیں۔

default

امریکی صدر اوباما اور ان کی انتظامیہ افغانستان کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔ اوباما انتظامیہ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف جاری جنگ کے لئے مزید امریکی فوجی دستے افغانستان بھیجے گی۔ صدر اوباما نے ابھی حال ہی میں ایک ایسے قانونی بل پر دستخط بھی کر دئے تھے، جس کے تحت معتدل اور عسکریت پسندی ترک کرنے والے طالبان کو مالی معاوضہ دیا جائے گا۔

Barack Obama Afghanistan Diskussion

صدر اوباما قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ گفت شنید میں مصروف ہیں

منگل کی شام واشنگٹن میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ وہ یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ بالآخر افغان عوام کو ہی اپنے ملک میں سلامتی کی ذمہ داری سنبھالنا ہوگی۔ ’’آٹھ سال بعد، جن میں سے کئی برس ایسے بھی ہیں جب ہم نے نہ حکمت عملی پر غور کیا اور نہ وسائل پر، تاکہ یہ کام تکمیل پائے۔ میری رائے میں اس کام کو ختم ہو جانا چاہئے۔‘‘

صدر اوباما نے کہا کہ عالمی برادری افغانستان کی ترقی کے حوالے سے اپنے عزم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ’’عالمی برادرری کے لئے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ افغانستان کی ترقی اور اسے جدید ریاست بنانے کے اپنے عزم کو عملی جامہ پہنائے۔‘‘ امریکی صدر نے کہا کہ پوری دنیا کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ افغانستان کے حوالے سے امریکہ کا ساتھ دے۔

USA Afghanistan Dänemark Treffen Barack Obama und General Stanley McChrystal Flughafen Kopenhagen

جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے صدر اوباما سے افغانستان میں مزید فوجی دستوں کی تعیناتی کی درخواست کی تھی

باراک اوباما پر اس وقت افغانستان کے بارے میں کوئی واضح لائحہ عمل مرتب کرنے کے حوالے سے شدید داخلی دباؤ ہے۔ ان کی اپنی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی اراکین ایسے ہیں، جو یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان سے فوجی دستوں کے انخلاء کی کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر کی جائے۔ تاہم دوسری جانب افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے چند ہفتے قبل امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ وہ افغانستان میں چالیس ہزار اضافی دستے تعینات کریں، بصورت دیگر افغان جنگ شکست میں تبدیل ہو جائے گی۔

دریں اثناء افغانستان میں متعین امریکی سفیر کارل ایکینبری نے خبردار کیا تھا کہ جب تک نئی افغان حکومت ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی، وہاں مزید فوجی تعینات نہیں کئے جانے چاہیئں۔ امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ جب امریکی عوام کو افغانستان کے حوالے سے غیر مبہم اور واضح حکمت عملی سے آگاہ کیا جائے گا، تو وہ واشنگٹن حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک