1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان مزید فوج بھیجنے کا فیصلہ بہت جلد متوقع

افغانستان کے لئے نئی امریکی پالیسی، خاص طورپر اضافی فوج بھیجنے کا اعلان نومبر کے اواخر میں کیا جائے گا۔

default

امریکی صدر باراک اوبامہ جنرل سٹین لے میک کرسٹل سے مشاورت کرتے ہوئے، فائل فوٹو

امریکی صدر باراک اوباما کے ترجمان رابرٹ گبس نے صحافیوں کوبتایا ہے کہ چھبیس نومبر کو شروع ہونے والی ایک ہفتے کی Thanksgiving کی تعطیلات کے بعد تک نئی پالیسی سے متعلق سٹریٹییجک نوعیت کا یہ انتہائی اہم فیصلہ ملتوی کیا گیا ہے۔ حریف رپبلکن اراکین کے ساتھ ساتھ نئے امریکی صدر کو ان دنوں اندرونی طور پر اپنی ہی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے بعض اہم اراکین کی جانب سے بھی اس سلسلے میں شدید مزاحمت و مخالفت کا سامنا ہے۔

گزشتہ دنوں ہی ملکی عسکری اور سیاسی قیادت سے طویل مشاورتی سلسلے کے بعد، اوباما نے عندیہ دیا تھا کہ ممکنہ طورپر ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوج افغانستان بھیجنے سے متعلق فیصلے کا اعلان وہ چند ہی روز میں کردیں گے۔

Sprecherin des Repräsentantenhauses der Vereinigten Staaten Nancy Pelosi nach dem Obama Wahlsieg

اسپیکر نینسی پیلوسی

اوباما، افغانستان میں ایک لاکھ سے زائد غیر ملکی فوج کی قیادت کرنے والی امریکی جنرل سٹینلی میک کرسٹل سمیت دیگر اعلیٰ مشیران سے بند کمرے میں متعدد ملاقاتیں کرچکے ہیں۔

گیارہ ستمبر سال دوہزار ایک کے حملوں کے بعد افغانستان میں شروع کی گئی جنگ کے آٹھ سال گزرجانے پر، جنرل میک کرسٹل نے مزید چالیس ہزار اضافی فوج افغانستان روانہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

میک کرسٹل خبردار کرچکے ہیں کہ اگر ایک سال کے اندر اندر اضافی فوج فراہم نہ کی گئی تو طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے بڑھتی مزاحمت کو دیکھتے ہوے خطرہ ہے کہ یہ مشن ناکام ہوسکتا ہے۔

امریکہ میں معاشی شعبے کو درپیش مسائل اور افغان صدر حامد کرزئی کی انتظامیہ پر بدعنوانی کے الزامات کے بعد اس جنگ کے لئے امریکہ میں سیاسی حمایت میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔

Die Stützen der Macht

افغان صدر حامد کرزئی نیٹوکے ایک فوجی اہلکار سے ہاتھ ملاتے ہوئے، فائل فوٹو

گزشتہ دنوں امریکہ کے قومی ریڈیو کو دئے گئے ایک انٹرویو میں ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی اس معاملے پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام بالآخر کیسے اس مقصد کے لئے جان و مال کی قربانی دے سکتے ہیں۔ نینسی پیلوسی نے مطالبہ کیا ہے کہ محض فوج کی تعداد بڑھانے کی بات نہ کی جائے بلکہ مکمل اور واضح پالیسی طے کی جائے، مقصد کیا ہے اور وسائل کیا ہیں۔ خیال رہے کہ نینسی پیلوسی کا شمار ان بااثر شخصیات میں ہوتا ہے، جو اس سے قبل عراق کے مقابلے میں افغانستان مزید فوج بھیجنے کی حمایت کررہی تھیں۔ ان کے اس حالیہ بیان نے امریکی صدر کے لئے فیصلہ کرنا کچھ مزید مشکل بنادیا ہے۔

افغانستان کے معاملے پر امریکی اقتدار کے ایوانوں میں جاری اس بحث کے علاہ یہ معاملہ امریکہ کے دیگر نیٹو اور غیر نیٹو اتحادی ممالک کی خارجہ پالیسی کا بھی اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ برطانوی حکومت کھل کر، دیگر یورپی ممالک سے افغانستان میں فوج میں اضافہ کرنے پر زور دے رہی ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے بقول ’’نیٹو افواج کی غیر موجودگی میں افغانستان بکھر جائے گا۔‘‘

کینیڈا اور ہالینڈ جیسے بعض ممالک البتہ سال دوہزار دس اور گیارہ میں افغانستان سے اپنے فوجی دستے واپس بلانے کا اعلان کرچکے ہیں۔

اب چند ہی روز میں پتہ چل جائے گا کہ نوبل امن انعام یافتہ امریکی صدر افغان جنگ سے متعلق کیسی حکمت عملی وضع کریں گے۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت گوہر نذیر گیلانی

DW.COM