1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان متعین غیر ملکی افواج کے لئے بدترین دن

رواں سال سات جون کا دن افغانستان میں متعین مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے لئے بدترین ثابت ہوا۔ اس دن مختلف پرتشدد واقعات میں نیٹو کے دس فوجی ہلاک ہوئے، جن میں سات امریکی تھے۔

default

سن 2010ء کے دوران یہ ایسا پہلا دن تھا جس روز نیٹو کے اتنے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے ہوں۔ واشنگٹن میں ایک اعلیٰ افسر نے تصدیق کی ہے کہ پانچ امریکی فوجی اس وقت ہلاک ہوئے جب مشرقی افغانستان میں ایک بارودی سرنگ پھٹی۔ ایک امریکی ایک دوسری باردوی سرنگ کی بھینٹ چڑھا جبکہ ساتواں امریکی فوجی ملک کے جنوب میں فائرنگ کے نتیجے میں اپنی جان گنوا بیٹھا۔

طالبان باغیوں سے نبرد آزما، کابل میں مغربی اتحاد نے تصدیق کی ہے کہ پیر کو ہوئی مختلف پر تشدد کارروائیوں میں مجموعی طورپر اس کے دس فوجی مارے گئے۔

NATO in Afghanistan

طالبان باغی مذاکرات سے قبل غیر ملکی افواج کا انخلاء چاہتے ہیں

فرانسیسی حکومت نے کہا ہے کہ مشرقی افغانستان میں طالبان باغیوں کے ایک راکٹ حملے کے نتیجے میں ان کا ایک فوج ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے، تاہم پیرس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا یہ ہلاک ہونے والا فرانسیسی فوجی، ان دس فوجیوں میں ہے، جن کی ہلاکت کی تصدیق نیٹو نے کی ہے۔

فرانسیسی صدرکے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں صدر نکولا سارکوزی نے ان پر تشدد واقعات کی سخت مذمت کی اور کہا کہ پیرس کی افواج افغانستان میں طالبان باغیوں کے خلاف برسر پیکار رہیں گی۔

پیر کوہوئی ایک اور خونریز کارروائی میں ایک امریکی سمیت دو کنٹریکڑز بھی ہلاک ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ قندھارمیں اس وقت پیش آیا، جب تین خود کش حملہ آوروں نے افغان پولیس کے ایک تربیتی سینٹر کو نشانہ بنایا۔

Afghanische Armee

پیر کے دن افغنستان میں نیٹو کے کل دس فوجی ہلاک ہوئے

دریں اثناء مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اورامریکی افواج قندھار صوبے میں طالبان باغیوں کے خلاف ایک بڑے عسکری آپریشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ قندھارصوبہ طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

طالبان باغیوں کی طرف سے تازہ حملے اس وقت کئے گئے ہیں، جب افغان صدر حامد کرزئی اعتدال پسند طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوشش میں ہیں۔ اس مقصد کے لئے ابھی حال ہی میں ایک گرینڈ جرگے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ لیکن طالبان باغی اپنی ضد پربرقرار ہیں کہ وہ مذاکرات کا سلسلہ اس وقت تک شروع نہیں کریں گے جب تک افغانستان سے غیر ملکی افواج واپس نہیں چلی جاتیں۔

رپورٹ:عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM