1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

افغانستان: قدامت پسند معاشرہ، زچہ و بچہ کی ہلاکت کا سبب

عالمی ادارہ صحت کے مطابق افغانستان میں زچگی کے مرحلے کے دوران خواتین کی شرح اموات دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اور اس کی بڑی وجوہات ہسپتالوں تک خواتین کی عدم رسائی، غربت اور قدیم روایات کو قرار دیا گیا ہے۔

default

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں زچگی کے دوران ہر گیارہ میں سے ایک خاتون ہلاک ہو جاتی ہے اس کے برعکس افغانستان کے پڑوسی ملک تاجکستان میں یہ شرح ہر چار سو تیس خواتین میں سے ایک جبکہ آسٹریا میں اعداد و شمار کے مطابق ہر 14300 خواتین میں سے صرف ایک خاتون زچگی کے مرحلے کے دوران ہلاک ہوتی ہے۔ افغانستان میں قدیم روایات کے مطابق کم عمری میں ہی لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے موثر طریقوں کے عدم استعمال سے بچوں کی پیدائش میں تسلسل سے اضافہ ہوتا رہتا ہے، جس کے نتیجے میں خواتین کے حوالے سے صحت کے مختلف مسائل جنم لیتے ہیں۔

Flash-Galerie berufstätige afghanische Frauen

سولہ فیصد خواتین مانع حمل کے جدید طریقے استعمال کر رہی ہیں

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق بیس سال عمر کی خواتین کی نسبت پندرہ سال کی عمر میں زچگی کے مرحلے سے گزرنے والی خواتین میں اموات کا خطرہ پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ دہائیوں سے مختلف تنازعات اور تباہ حال معیشت کے حامل ملک افغانستان میں حکومت کی زیرسرپرستی چلنے والے صحت عامہ کے چند ایک اداروں کا دائرہ کار صرف شہروں تک ہی محدود ہے۔ ملک میں بنیادی ڈھانچے کی ابتر صورتحال بھی خواتین کی ہسپتالوں تک بروقت رسائی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

ملک میں قدامت پسند معاشرہ بھی خواتین کے مسائل میں اضافے کا سبب ہے۔ زیادہ تر خواتین اپنے کسی رشتےدار محرم مرد کے بغیر گھر سے باہر اکیلی قدم نہیں رکھ سکتیں ہیں اور اگر گھر پر کوئی مرد موجود نہیں ہے، تو خواتین کو گھر پر ہی زچگی کے تکلیف دہ مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح سے خواتین کا مرد ڈاکٹروں سے علاج کروانا بھی سختی سے منع ہے۔ بدقسمتی سے طالبان کے دورحکومت میں خواتین کے تعلیم کے حصول پر پابندی کے بعد افغانستان میں خواتین ڈاکٹروں اور مڈ وائفز کی تعداد انتہائی کم ہے۔

Berufstätige afghanische Frauen

افغانستان میں خواتین ڈاکٹروں اور مڈ وائفز کی تعداد انتہائی کم ہے

زچگی کے مرحلے کے دوران طبی سہولتوں سے استفادہ کرنے کو مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ ایک ’بڑے خاندان کی خواہش‘ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خاتون خانہ زچگی کے دوران کسی بھی جراحی عمل سے محفوظ رہے کیونکہ افغانستان میں عمومی رائے یہ ہے کہ جراحی عمل کے بعد مزید بچوں کی پیدائش کے امکانات محدود رہ جاتے ہیں جبکہ افغانستان میں ایک عام خاندان پانچ سے زیادہ افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق افغانستان میں خواتین کی زچگی کے دوران شرح اموات طالبان کے دور حکومت کی نسبت نمایاں حد تک کم ہوئی ہیں اور افغان حکومت نے بھی اس سلسلے میں بہتر اقدامات کیے ہیں۔

حال ہی میں اس حوالے سے کیے جانے والے ایک سروے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے افغان قائم مقام وزیر صحت ثریا دلیل نے کہا کہ ماں اور بچے کی بہتر صحت کو یقینی بنانے کے لیے ابھی بہت سے اقدامات کرنے باقی ہیں۔ معروف سماجی تنظیم "سیو دا چلڈرن " کے اس سروے کے مطابق افغانستان میں صرف چودہ فیصد زچگی کے مرحلے کے دوران خواتین کی مناسب دیکھ بھال کی جاتی ہے جبکہ صرف سولہ فیصد خواتین مانع حمل کے جدید طریقے استعمال کر رہی ہیں۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات