1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان: فوجی حل یا ایک نئی حکمت عملی؟

امریکہ کے بعد جرمنی نے بھی افغانستان میں اپنی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فوج میں اضافہ سے وہاں کی صورتحال پر قابو پایا جا سکتا ہے؟ اس بارے میں کرسٹو فر ہاسل باخ کا تبصرہ:

default

افغانستان میں ایک جرمن اور امریکی مشترکہ فوجی چوکی

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی فوج ISAF کے حملوں میں بڑی تعداد میں ہلاک ہو رہے ہیں۔ اس دوران یہ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ شہریوں کی ہلاکت سے نیٹو پر اعتماد بہت مشکوک ہوتا جا رہا ہے۔

اگرچہ یہ صحیح ہے کہ افغانستان میں طالبان بڑی بے رحمی سے شہرویوں کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ نیٹو کے فوجی شہریوں کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی سوال یہ ہے کہ ہر موت پر افغان عوام کا ردعمل کیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے حال ہی میں کہا ہے کہ اگر افغان، غیر ملکی فوجیوں کو مسئلے کے حل کی بجائے اس کا ایک حصہ سمجھتے ہیں تو نیٹو یہ جنگ ہار چکی ہے۔ یہی رابرٹ گیٹس، صدر بش کے دور میں بھی وزیر دفاع تھے۔ اس دور میں واشنگٹن میں صرف فوجی اقدامات کو بہت زیادہ ترجیح حاصل تھی۔

امرکہ کی سابق بش حکومت کی طرف سے جرمنی پر مسلسل تنقید کی جاتی تھی کہ وہ افغانستان میں فوجی اقدامات میں موزوں حصہ لینے سے گریز کر رہا ہے اور اس کی توجہ تعمیر نو کے اقدامات پر زیادہ ہے لیکن اب ایک جامع منصوبے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فوجی کارروائی کو کم اہم سمجھا جائے بلکہ منشاء یہ ہے کہ فوجی سلامتی، سول تعمیر نو اور افغان سیکیورٹی فورسز پولیس اور فوج کی تربیت ان سبھی پہلوں پر توجہ دی جائے اور ان کے درمیان ایک قسم کا توازن ہو۔

امریکہ کے رہنماؤں نے ایک لمبے عرصے تک اس سادہ سی حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہا کہ اگر نیٹو ایک برسوں طویل جنگ کے بعد طالبان کو شکست بھی دے دے جو کہ ویسے بھی ممکن نہیں ہے تب بھی اگر وہ افغانوں کی نظر میں ایک دشمن ہوں تو پھر اس نے کچھ بھی نہیں جیتا۔ غیر ملکی مداخلت سے افغانوں کو کیا حاصل ہو یہ وہ سوال ہے جس کے جواب پر نیٹو کے پورے مشن کی کامیابی یا ناکامی منحصر ہے۔

فوج میں اضافے سے بھی صورت حال کا بہتر ہونا لازمی نہیں ہے۔ امریکی صدر اوباما کا مزید 17000 فوجی افغانستان روانہ کرنا بذات خود کوئی پیش رفت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فوجی درحقیقت کیا کریں گے۔ اوباما نے ابھی تک اپنی افغانستان کی نئی پالیسی پیش نہیں کی ہے۔ اسی سے یہ ظاہر ہوگا کہ اوباما کی سوچ بش کی سوچ سے کس حد تک مختلف ہے۔