1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان: غیر ملکی فوجیوں کا احساس حالت جنگ

جرمنی کے اندر سیاسی اور دانشور حلقے فس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا افغانستان کے بعض علاقوں کے اندر پائی جانے والی داخلی انتشار اور لاقانونیت و دہشتگردی کی کیفیت حالتِ جنگ کی مظہر ہے۔

default

جرمن وزیر دفاع افغان فوجیوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے۔

کیا افغانستان میں متعین غیر ملکی افواج حالت جنگ میں ہیں؟

اس سوال پر جرمنی میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ’اخبار فرنکفورٹر الگمائنے‘ کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے چند شورش زدہ علاقوں میں ’جنگ کی سی صورتحال‘ پائی جاتی ہے۔ اس سے قبل جرمنی کے وفاقی وزیر دفاع تھیوڈور سو گوٹن برگ نے بھی اس طرف نشاندہی کرتے ہوئے افغانستان متعینہ جرمن فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد جرمنی کے سیاسی حلقے میں خاصی ہلچل مچ گئی ہے۔ کرسچن ڈیموکریٹ لیڈر اور جرمن وزیر دفاع نے جمعے کے روز افغانستان کے اچانک دو روزہ دورے کے اختتام پر قندوز میں متعین جرمن فوجی دستے میں انفنٹری ڈویژن کے 120 فوجیوں کے اضافے کا اعلان کیا تھا۔ جرمن وزیر کے مطابق افغانستان کی جنگی صورتحال کی نوعیت بہت خاص ہے۔ جرمن وزیر دفاع کے مطابق یہ ایک کلاسیکی جنگ، جس کا تعلق بین الاقوامی قوانین سے ہے اور جو مختلف ریاستوں کے مابین لڑی جاتی ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ہر اْس فوجی کے احساسات اورجذبات سمجھتے ہیں جو خود کو حالت جنگ میں محسوس کر رہا ہے۔

تاہم جرمنی کے بین الاقوامی قوانین کے ماہرین سمیت چند سیاست دانوں کا ماننا ہے کہ لفظ ’جنگ‘ کا استعمال ذرا سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہئے۔ برلن کی ہمبولڈ یونیورسٹی کے ماہر بین الاقوامی قوانین Georg Nolte کہتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے ماہر ہیں اس لئے وہ بین الاقوامی معاہدوں کے

Guttenberg mit Hamid Karsai in Kabul, Afghanistan

جرمن وزیر دفاع اور افغان صدر

حوالے سے اِس صورت حال کو دیکھتے ہیں۔ نولٹے کے مطابق ’جنگ‘ کی اصطلاح کا استعمال اب نہیں کیا جاتا۔ جرمنی میں محض اس امر پر بحث نہیں ہوئی کہ ’جنگ‘ ہے کیا بلکہ اسے مختلف تناظر میں بھی زیر بحث لایا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس امر پر اتفاق ہو گیا تھا کہ ’جنگ‘ کی اصطلاح کے بجائے ’ قانونی معاملات میں ’مسلحہ جھڑپوں ‘ کی اصطلاح کا استعمال کرنا بہتر ہے۔

دریں اثناء جرمنی کی ماحول پسند گرین پارٹی کے سلامتی امور کے ماہر اْمید نوری پور نے جرمن وزیر دفاع کے شمالی افغانستان میں مزید جرمن فوجیوں کو بھیجنے کے اعلان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ 120 مزید فوجیوں کو افغانستان میں تعینات کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ جرمنی افغانستان متعینہ اپنے ساڑھے چار ہزار اپنے کی مختص شدہ بالافوجییوں کی حد سے تجاوز کر جائے گا۔ اْمید نوری پور کے مطابق وفاقی جرمن حکومت افغانستان میں مزید فوج تعینات نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر قندوز کے لئے مزید فوجیوں کی تعیناتی ضروری ہے تو، دیگر علاقوں میں موجود جرمن فوجیوں کو قندوز منتقل کیا جانا چاہئے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت : عابد حسین