1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان: عالمی امداد کے اربوں ڈالر کہاں گئے

کابل میں منعقد ہونے والی کانفرنس اُن رپورٹوں کا بھی جائزہ لے گی، جن کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران صرف کابل کے ہوائی اڈے ہی کے راستے کئی ارب ڈالر افغانستان سے باہر لے جائے گئے ہیں۔

default

ایک تاجر افغان کرنسی نوٹوں کے ساتھ

آج بین الاقوامی برادری یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ آخر وہ پیسے جاتے کہاں ہیں، جو وہ افغانستان کو فراہم کر رہی ہے؟ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ پیسہ بڑی آسانی سے ہاتھ سے پھسل جاتا ہے لیکن ایک ملک کے طور پر افغانستان کے ہاتھوں سے کچھ زیادہ ہی پیسہ پھسلتا جا رہا ہے۔ افغان وزیر مالیات عمر زاخیل وال بتاتے ہیں: ’’گزرے تین برسوں کے دوران صرف کابل کے ہوائی اڈے ہی کے راستے 4.2 ارب ڈالر ملک سے باہر گئے ہیں۔‘‘

ساتھ ہی وزیر مالیات کا یہ بھی اصرار ہے کہ یہ کوئی خلافِ قانون بات نہیں تھی اور یہ سارا وہ پیسہ ہے، جس کی منتقلی کا تمام متعلقہ افغان حکام کو علم تھا۔ وجوہات کچھ بھی ہوں، پیسے کا ملک سے باہر جانا بہرحال اِس ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔ جریدے ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق افغانستان سے باہر جانے والی رقوم کی مالیت ریاست کو ٹیکسوں کی مَد میں ملنے والی رقوم سے زیادہ ہے۔

وزیر مالیات عمر زاخیل وال کو کم از کم اتنا تو علم ہے کہ یہ بھاری رقوم ملک سے باہر کیوں گئیں۔ وہ بتاتے ہیں: ’’اِن میں سے زیادہ تر رقوم وہ ہیں، جو افغانستان کو بیرونی امداد کے طور پر ملی تھیں۔ کئی کئی ملین ڈالر کی یہ رقوم بڑے بڑے آرڈر وصول کرنے والی فرموں کو دی جاتی ہیں۔ ہم اِن فرموں کو یہاں پیسہ دیتے ہیں اور وہ اِسے ملک سے باہر منتقل کر دیتی ہیں۔‘‘

Dirk Niebel mit Finanzminister Omar Sakhilwal in Afghanistan

اس سال یکم اپریل کی اِس تصویر میں افغان وزیر مالیات عمر زاخیل وال اظہارِ خیال کر رہے ہیں، اُن کے ساتھ ترقیاتی امور کے جرمن وزیر ڈِرک نیبل بیٹھے ہیں

امداد فراہم کرنے والے مغربی ملک بھی اِس بات سے یقیناًخوش نہیں ہوں گے کہ وہ جو بھی امداد فراہم کرتے ہیں، وہ اٹیچی کیسوں اور ڈبوں میں بند ہو کر ایک بار پھر ملک سے باہر چلی جاتی ہے، مثلاً دبئی پہنچ جاتی ہے۔ وہاں یہ پیسہ بلاشبہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں زیادہ جاتا ہے، جنہیں عام افغان شہریوں کے مقابلے میں اِس کی کم ضرورت ہوتی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان دُنیا کا دوسرا بدعنوان ترین ملک ہے اور یوں یہ شک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پبسے کی ملک سے باہر منتقلی میں خود کابل حکومت ملوث ہو سکتی ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی طرف سے بھی ظاہر کئے گئے ایسے ہی شکوک و شبہات کا جواب دیتے ہوئے وزیر مالیات کہتے ہیں: ’’اِن اعداد و شمار کو یوں پیش کیا گیا ہے، جیسے ہماری حکومت کی صفوں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی گئی ہو۔ ہم لیکن یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس تو خرچ کرنے کے لئے تھے ہی صرف ایک ارب ڈالر۔ ایسے میں ہم اِس میں کہاں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ہمارا اِس میں کوئی قصور نہیں ہے۔‘‘

یہ افغان وزیر جامع تحقیقات کے حق میں ہیں۔ ابھی تک تو صرف کابل ایئر پورٹ کے راستے ملک سے باہر جانے والی رقوم کا پتہ چلا ہے، پاکستان یا ایران کی سرحدوں کے راستے رقوم کی ملک سے باہر منتقلی کے بارے میں ابھی کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ افغان وزیر کے خیال میں افغانستان کے پوست کے کاشتکاروں کی آمدنی چھ تا سات سو ملین ڈالر ہے، جو وہ زیادہ تر ملک کے اندر ہی خرچ کرتے ہیں۔ منشیات کے تاجروں کی سالانہ آمدنی 1.5 ارب ڈالر ہے، جو اُنہیں ملتی ہی ملک سے باہر ہے۔ تاہم افغان وزیر کے خیال میں اگر منشیات کا کاروبار کرنے والے منشیات سمگل کر کے لے جا سکتے ہیں تو بلا شبہ وہ پیسہ بھی ملک سے باہر منتقل کر سکتے ہیں۔

رپورٹ: کائی کیوسٹنر (نئی دہلی) / امجد علی

ادارت: مقبول ملک