1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان عالمی ادارہٴ تجارت کا رکن بن گیا

عشروں کی خانہ جنگی سے تباہ حال ملک افغانستان عالمی ادارہٴ تجارت کا رکن بن گیا ہے۔ افغانستان کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے اور وہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی رکنیت حاصل کرنے والا دنیا کا 164 واں ملک ہے۔

Bildergallarie Baumwolle in Afghanistan

اب افغانستان کو بیرونی تجارت کے بہتر مواقع میسر آ سکیں گے

افغان دارالحکومت کابل سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ہندوکش کی یہ ریاست ڈبلیو ٹی او میں آج جمعہ انتیس جولائی کے روز شامل ہوئی۔ اس مقصد کے لیے ملکی صدر اشرف غنی نے قومی پارلیمان کے ایوان بالا کا ایک اجلاس بلا رکھا تھا، جس میں ارکان نے اکثریتی رائے سے چھ ایسے نئے قوانین کی منظوری دے دی، جن کا منظور کیا جانا افغانستان کی عالمی ادارہٴ تجارت کی رکنیت کے لیے لازمی شرط تھا۔

افغان وزارت صنعت و اقتصادیات کے ایک ترجمان نے نئے قوانین کی پارلیمانی منظوری کے بعد کابل میں کہا کہ اس عالمی تنظیم کی رکنیت کے ساتھ افغانستان اب بین الاقوامی تجارت میں اپنا کردار بہتر طور پر ادا کر سکے گا۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق افغانستان نے اس تنظیم کی رکنیت کے لیے درخواست 2004ء میں دی تھی اور اسے اپنا یہ ہدف حاصل کرنے میں 12 سال کا عرصہ لگا۔

افغانستان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر زراعت پر ہے۔ ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس ملک میں آمدنی کا سب سے زیادہ انحصار پوست کی کاشت اور اس سے تیار کی جانے والی منشیات کی پیداوار اور غیر قانونی تجارت پر ہے۔

Afghanistan Opiumproduktion

افغانستان میں آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ منشیات کی پیداوار اور غیر قانونی تجارت ہے

افغانستان تانبے، کرومیم اور لوہے جیسی دھاتوں کے وسیع ذخائر کی صورت میں معدنی دولت سے مالا مال بھی ہے اور وہاں سے بہت سے قیمتی پتھر بھی نکلتے ہیں۔ تاہم سلامتی کی تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورت حال اس ریاست میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے۔

افغان وزیر اقتصادیات ہمایوں رضا کے مطابق عالمی ادارہٴ تجارت کے رکن ملک کے طور پر افغانستان کو یہ موقع میسر آ سکے گا کہ وہ اپنے ہاں قانون کی حکمرانی کو بہتر اور مالیاتی شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے اقتصادی استحکام اور بہتر شرح نمو کے قومی اہداف حاصل کر سکے۔

DW.COM