1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: طالبان کے خودکش سکواڈ کا حملہ، تین پولیس اہکار ہلاک

پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبے پکتیا میں ایک خودکش حملہ آور نے بم دھماکہ کرکے تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔ حکام کے مطابق چار حملہ آوروں میں سے ایک مارا گیا جبکہ دو فرار ہوئے۔

default

گزشتہ روز بھی مشرقی صوبے کُنڑ میں ایک ایسے ہے خودکش حملے میں حکومت کے حامی سوویت قبضے کے دور کے ایک سابق مجاہد کمانڈر ملک زرین سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے میں پانچ کم عمر طالب علم بھی مارے گئے تھے۔ جمعرات کو کیے جانے والے حملے سے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ طالبان کے چار خودکش حملہ آوروں نے پکتیا میں زازئی کے علاقے میں ایک پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ ان میں سے ایک نے اپنے ہدف کے قریب خود کو دھماکہ کرکے اڑا دیا، دوسرا حملہ آور پولیس فائرنگ میں مارا گیا جبکہ باقی دو فرار ہوگئے۔ صوبائی گورنر آزاد خان کے مطابق طالبان کے خودکش سکواڈ کی کارروائی کے وقت پولیس اہلکار معمول کی تربیتی مشق کر رہے تھے۔

جمعرات ہی کو دہشت گردی کا ایک دوسرا واقعہ دارالحکومت کابل کے موسائی ضلع میں پیش آیا۔ مقامی پولیس اہلکار محمد ظاہر کے مطابق ایک خودکش حملہ آور ضلعی انتظامیہ کے دفتر میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ اسے رُکنے کو کہا گیا مگر وہ نہ رکا اور اس نے دھماکہ کرکے خود کو ہلاک اور چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

Buddhastatuen in Bamiyan Flash-Galerie Taliban Krieger

طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پکتیا اور کابل کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی ان واردارتوں میں درجنوں سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی 2014ء سے افغانستان سے فوجی انخلاء کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں۔ اس منصوبے پر عملدآمد رواں سال ہی سے شروع ہوجائے گا اور سلامتی کی ذمہ داری افغان سکیورٹی دستوں کو منتقل ہونا شروع ہوجائے گی۔ اس پس منظر میں طالبان عسکریت پسندوں نے اپنی خونریز کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ اس شورش زدہ ملک کے جنوبی و مشرقی علاقے اس سلسلے میں انتہائی حساس تصور کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM