1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: طالبان کا امریکی فوجی اڈے پر حملہ

افغانستان کے ایک مشرقی علاقے میں ہفتہ کی صبح طالبان نے ایک امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے۔ تاہم ابھی تک اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

default

اس کارروائی میں ملوث طالبان کی تعداد 30 بتائی گئی ہے، جن میں خود کُش بم حملہ بھی شامل تھے۔ یہ حملہ صوبہ خوست میں آپریٹنگ بیس چیپمین میں ہوا، جو پاکستان کو افغانستان سے ملانے والی جنوب مشرقی سرحد پر واقع ہے۔ فارورڈ آپریٹنگ بیس چیپمین افعانستان میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی اہم ترین تنصیب ہے۔ اس علاقے کو طالبان کا گڑھ بھی مانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں نیٹو افواج کی جانب سے طالبان کے خلاف کارروائیوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں فارورڈ آپریٹنگ بیس چیپمین میں ہونے والے ایک خود کُش بم حملے میں سی آئی اے کے سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اُس واقعہ کو امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی تاریخ میں اُس پر ہونے والا دوسرا بدترین حملہ قرار دیا گیا تھا۔

دریں اثناء افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کی ایک ترجمان لیفٹیننٹ کمانڈر کاٹی کینڈرک نے آج کے اس نئے حملے کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ اُدھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک نا معلوم مقام سے خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں بتایا کہ 30 حملہ آوروں نے فارورڈ آپریٹنگ بیس چیپمین پر حملہ کیا، جن میں متعدد خود کُش حملہ آور بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور کے پاس راکٹ اور مشین گنیں بھی تھیں۔

اُدھر ہفتہ ہی کو آئی سیف فورسز نے غلطی سے دو پرائیویٹ سکیورٹی کانٹریکٹرز کو ہلاک کرنے کا اقرار کیا ہے۔ نیٹو ذرائع کے مطالبق اس واقعے سے قبل جمعہ کو افغانستان کے مشرقی اور جنوبی حصے میں ہونے والے بم حملوں میں نیٹو کے دو فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس