1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: طالبان نے آپریشن ’’عمری عملیات‘‘ کا اعلان کر دیا

طالبان نے افغانستان میں موسم بہار کی اپنی روایتی سالانه جنگی کارروائیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ طالبان نے ان کارروائیوں کو اپنے سابق لیڈر ملا عمر سے منسوب کرتے ہوئے ’’عمری عملیات‘‘ کا نام دیا ہے۔

طالبان کی اعلان کے مطابق منگل صبح پانچ بجے سے اس برس کی نئی جنگی کارروائیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ طالبان جنگجوؤں کے مطابق اب اُن علاقوں پر قبضه کرنے کی کوشش کی جائے گی، جو اب تک حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ طالبان نے اپنے مشن کے تین نکات بیان کرتے ہوئے کہا ہے که حکومتی اہداف پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جائیں گے، اہم اہداف کو حکمت عملی کے تحت اور خودکش حمله آوروں کے ذریعے نشانه بنایا جائے گا اور اہم حکومتی شخصیات کو شہروں کے اندر نشانہ بنایا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے اس اعلان کا مقصد اور اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگجو گروپ اپنے داخلی انتشار کو کم کرنے میں مصروف ہے، جو ملا عمر کے انتقال کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد پیدا ہوا تها۔ ’’عمری عملیات‘‘ کے اعلان سے چند روز قبل طالبان نے ملاعمر کے بهائی اور بیٹے کو اہم عہدوں پر فائز کرنے کا بهی اعلان کیا تها۔ دوسری جانب طالبان کے موجوده کمانڈر ملا اختر محمد منصور سے اختلاف رکهنے والا ایک گروپ اب بهی ملا رسول نامی کمانڈر کی سربراہی میں سرگرم ہے۔

نئے جنگی مشن میں اس بات پر بهی زور دیا گیا ہے که طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں غربت کے خاتمے، تعلیم اور دیگر رفاعی کاموں کو تیز کیا جائے گا۔

Afghanistan Mullah Mohammed Omar Taliban Anführer

طالبان نے ان کارروائیوں کو اپنے سابق لیڈر ملا عمر سے منسوب کرتے ہوئے ’’عمری عملیات‘‘ کا نام دیا ہے

افغان حکومت اور وہاں تعینات غیر ملکی افواج کی قیادت کو طالبان کے اس نئے جنگی اعلان کی توقع تهی۔ اسی لیے ’’عمری عملیات‘‘ کے اعلان سے ایک روز قبل کابل میں وزارت خارجه نے طالبان کو آخری بار امن مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دوسری صورت میں انہیں چہار فریقی )امریکا، چین، پاکستان اور افغانستان) رابطه گروپ کے طے شده منصوبے کے مطابق فوجی طاقت کا نشانه بنایا جائے گا۔

واضح رہے که طالبان کی جانب سے موسم بہار کی جنگی کارروائیوں کے آغاز سے قبل کابل حکومت نے بھی ملک گیر انسداد دہشت گردی کے ’’آپریشن شفق‘‘ کا اعلان کیا تھا۔

طالبان کے اعلامیے پر تبصره کرتے ہوئے افغان وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے کہا ہے که افغان سکیورٹی دستے شہریوں کی جان و مال اور ملک کی سلامتی کے لیے ہر گهڑی تیار ہیں۔ وزیری نے زور دے کر کہا که تشدد کا راستہ کوئی حل نہیں اور امن کی خاطر کوششیں ہونی چاہییں۔ وزارت داخله کے ترجمان صدیق صدیقی نے اپنے ردعمل میں کہا ہےکه طالبان گزشته 14 برسوں سے اس قسم کے اعلانات کر رہے ہیں اور یه محض پروپیگنڈه اور خون خرابے کے سوا کچه بهی نہیں۔

افغان تجزیه کار عتیق الرحمان کے بقول ایسا لگتا ہے که طالبان اب بهی ایک جامع منصوبے کے تحت اپنے اس موقف پر قائم ہیں که جنگ کے ذریعے ہی مطلوبہ ہدف تک پہنچا جا سکتا ہے، ’’گلبدین حکمتیار کی جماعت حزب اسلامتی حکومت سے بات چیت پر آماده ہوچکی ہے تاہم طالبان کی جانب سے ملاعمر کو سراہنے کے اس انداز اور دیگر اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے که وه مذاکرات کے بجائے طاقت اور تشدد کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘‘

اس بابت یه امر اہم ہے که افغانستان میں گزشته کچھ عرصے سے سلامتی کی مکمل ذمه داریاں افغان دستوں کے کاندهوں پر ہیں اور وه غیر ملکی دستوں کے برعکس کم تربیت یافتہ ہیں۔ پرتشدد واقعات اور ہلاکتوں کے حوالے سے گزشته برس خونریز ترین رہا تها۔ مبصرین کے مطابق رواں برس سابقہ برسوں کی نسبت زیاده خونریز ثابت ہو سکتا ہے۔