1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: صدارتی انتخابات کے اپریل میں ہی ممکنہ انعقاد پر نیٹو کی تشویش

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے افغانستان میں صدارتی انتخابات اگست کی بجائے ممکنہ طور پر اپریل ہی میں منعقد کروانے کی خبروں پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ انتخابات کی تیاری کے لئے زیادہ وقت درکار ہو گا۔

default

نیٹو دَستے جنوبی افغانستان میں

اب تک یہی کہا جا رہا تھا کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات بیس اگست کو منعقد ہوں گے۔ تاہم گذشتہ وِیک اَینڈ پر افغان صدر حامد کرزئی نے یہ اعلان کیا کہ آئین کی رُو سے یہ انتخابات بائیس مئی سے تیس تا ساٹھ روز پہلے منعقد ہونے چاہییں۔ یہ وہ تاریخ ہے، جب کرزئی کی پانچ سالہ مدتِ صدارت اختتام کو پہنچ رہی ہے۔

Afghanistan Deutschland Verteidigungsminister Franz Josef Jung bei der Bundeswehr in Kundus

جرمن وزیر دفاع شمالی افغانستان میں متعینہ جرمن فوجیوں سے باتیں کرتے ہوئے

اب نیٹو حلقوں میں یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ ممکنہ طور پر اپریل ہی میں صدارتی انتخابات منعقد ہونے کی صورت میں بین الاقوامی محافظ دَستہ برائے افغانستان ISAF ابھی اِس قدر مضبوط اور مستحکم نہیں ہو گا کہ انتخابی عمل کو ضروری حفاظت فراہم کر سکے۔ ایک امریکی سفارتکار نے کہا: ’’اِس وقت سب سے خوفناک بات یہ ہو گی کہ افغانستان میں ایسے انتخابات منعقد ہوں، جو تشدد کا شکار ہو جائیں۔‘‘

بیس فروری کو جرمن وزیر دفاع فرانس ژوزیف ژُنگ نے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ انتخابات کے پیشِ نظر شمالی افغانستان میں متعینہ جرمن فوجی یونٹوں کو بھی مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ تاہم یہ بات اُنہوں نے بیس اگست کو مجوزہ انتخابات کی صورت میں کہی تھی۔ اتوار کو ہی افغان الیکشن کمیشن نے بھی یہ کہا کہ انتظامی لحاظ سے اپریل ہی میں انتخابات منعقد کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

Sicherheitskonferenz München Hamid Karzai

افغان صدر حامد کرزئی اِس سال میونخ میں منعقدہ سلامتی کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے

افغانستان کے حالات پر تبادلہء خیال کے لئے نیٹو کے وُزرائے خارجہ کا ایک اجلاس جمعرات کو برسلز میں منعقد ہو رہا ہے۔ وہاں ا‌ِس موضوع پر بھی تبادلہء خیال کیا جائے گا کہ آیا نیٹو کو سازوسامان کی فراہمی کے لئے چین کا راستہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے راستے نیٹو دَستوں کو ضروری اَشیاء کی فراہمی کے راستے زیادہ سے زیادہ حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں، جس کے بعد نیٹو کی قیادت متبادل راستے تلاش کر رہی ہے۔

ہلیری کلنٹن امریکی وزیر خارجہ کے طور پر پہلی مرتبہ نیٹو وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں شریک ہوں گی۔ اِس اجلاس میں نیٹو اور روس کے درمیان باقاعدہ تعلقات کی بحالی کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیٹو روس کونسل کے اجلاس گذشتہ موسمِ گرما میں جارجیا کی جنگ کے بعد سے منعقد نہیں کئے جا رہے بلکہ دونوں کے مابین محض غیر رسمی ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔