1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے ISAF کا انخلاء: خوشی بھی، ڈر بھی

آج اکیس مارچ 2011ء سے افغانستان میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سلامتی کی ذمہ داریاں بتدریج مقامی سکیورٹی فورسز کے سپرد کرنا شروع کر دے گا۔ 2014ء کے اواخر تک بین الاقوامی محافظ دستے کے تمام سپاہی افغانستان چھوڑ چکے ہوں گے۔

default

ISAF دستے کے سپاہی

بہت سے افغانی شہریوں کے خیال میں نیٹو کی قیادت میں برسرِ پیکار بین الاقوامی محافظ دستے ISAF کا افغانستان سے انخلاء اتنی جلد عمل میں نہیں آنا چاہیے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے بقول اکیس مارچ خوشی کا دن ہے۔ آج نئے افغانی سال کے پہلے روز اُس بین الاقوامی افغانستان مشن کے اختتام کا آغاز ہو رہا ہے، جو امریکہ میں گیارہ ستمبر 2001ء کے دہشت پسندانہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا اور بدستور جاری ہے۔

کرزئی ایک بڑی تقریب میں خود یہ اعلان کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں کہ آئندہ افغانستان کے کن مقامات پر پولیس اور فوج کے مقامی یونٹ سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اِس قدر خوشی اور جوش افغانستان کی وزارتِ دفاع میں نظر نہیں آتا، جہاں ایک سرکردہ افسر اسحاق پیمان کو خدشہ ہے کہ افغان فوجی آج کل جس اسلحے اور ساز و سامان سے لیس ہیں، اُس کے ساتھ وہ نئی ذمہ داریاں بخوبی نہیں نبھا پائیں گے۔

Hamid Karzai

کرزئی کہتے ہیں، دُنیا کو پتہ ہونا چاہیے کہ بین الاقوامی برادری کا افغانستان مشن مستقل نہیں بلکہ عارضی تھا

اسحاق پیمان کہتے ہیں:’’ہماری فوج کو جو ہلکے ہتھیار دیے گئے ہیں، وہ تو نیٹو کے معیارات کے مطابق ہیں لیکن بھاری ہتھیاروں کے شعبے میں حالات بالکل مختلف ہیں۔ مثلاً ہمارے پاس توپخانہ یا راکٹ یونٹ نہیں ہیں۔‘‘

2014ء کے اواخر تک امریکہ افغان مسلح افواج کی تربیت اور ساز و سامان پر دَس ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم اسحاق پیمان کے مطابق وہ نہیں کہہ سکتے کہ آیا یہ رقم کافی ہو گی۔ آج کل افغان فوج کے سپاہیوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 55 ہزار ہے۔ اگلے تین برسوں میں اِس نفری میں مزید 90 ہزار کا اضافہ ہو گا۔

فوج کی طرح افغان پولیس کی حالت بھی زیادہ اچھی نہیں ہے۔ افغان وزیر داخلہ بسم اللہ محمدی کہتے ہیں:’’ابھی ہم خود تمام ذمہ داریاں نبھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہمارے پاس نہ تو مطلوبہ ہتھیار ہیں اور نہ ہی تربیت۔ یہ درست ہے کہ پولیس کے سپاہیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے لیکن زیادہ مقدار کا مطلب لازمی طور پر زیادہ معیار نہیں ہوتا۔‘‘

Flash-Galerie Bismillah Khan Mohammadi

وزیر داخلہ بسم اللہ محمدی کے مطابق پولیس ابھی اِس پوزیشن میں نہیں کہ امن و امان کی ذمہ داریاں خود سنبھال سکے

افغان پولیس کے اہلکاروں کی موجودہ تعداد تقریباً ایک لاکھ 22 ہزار ہے۔ دوسری جانب طالبان پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔ 2010ء میں گزشتہ دس برسوں کے دوران افغانستان میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جھڑپوں اور دہشت پسندانہ حملوں میں 2777 بے گناہ شہری مارے گئے اور اِس سال بھی ابھی حالات میں بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

گزشتہ نو برسوں کے دوران جرمنی نے تیس ہزار سے زیادہ پولیس اہلکاروں کو تربیت دی تاہم افغان وزیر داخلہ کے بقول ابھی تربیت کی فراہمی کا یہ سلسلہ ایک طویل عرصے تک جاری رہنا چاہیے۔ افغان وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اگر غیر ملکی دستے جلد افغانستان سے رخصت ہو گئے تو افعان پولیس کے لیے حالات کو کنٹرول میں رکھنا بہت مشکل ہو گا۔

افغان صدر حامد کرزئی اور گزشتہ ایک عشرے سے افغانستان مشن میں شریک تمام ممالک البتہ انخلاء کے منصوبوں پر قائم ہیں۔ کابل میں صدارتی محل کی جانب سے کہا گیا ہے، دُنیا کو پتہ ہونا چاہیے کہ بین الاقوامی برادری کا افغانستان مشن مستقل نہیں بلکہ عارضی تھا۔

رپورٹ: رتبیل شامل / امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس