1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے ڈچ فوج کی اسی سال واپسی

نیدرلینڈ کے وزیراعظم Jan Peter Balkenende نے واضح کیا ہے کہ ڈچ فوج رواں سال ہی افغانستان سے واپسی کا سلسلہ شروع کردے گی۔

default

ڈچ وزیراعظم یان پیٹر بالکن اینڈے

ڈچ وزیراعظم نے آج واضح کیا کہ نگراں حکومت کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ نیٹو کی درخواست پر افغان مشن میں توسیع کرے۔ ہفتے کو ڈچ کابینہ نے سولہ طویل گھنٹوں تک اس معاملے پر مذاکرات کئے تاہم حکومتی اتحادی جماعتوں کرسچن ڈیموکریٹک اور لیبر پارٹی میں اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ پیر کو وزیراعظم بیلکن اینڈے ملکہ Beatrix کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیں گے کہ ان کے پاس پارلیمان میں واضح اکثریت نہیں رہی اور اب وہ حکومت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ امکان ہے کہ ایسی صورتحال میں ملکہ نئے انتخابات کا اعلان کریں گی۔

ڈچ وزیراعظم یان پیٹر بالکن اینڈے کی کرسچن ڈیموکریٹ جماعت افغانستان میں فوجی مشن کو توسیع دینے کی حامی ہے البتہ ان کی بڑی اتحادی جماعت لیبر پارٹی کسی صورت بھی اس کے لئے تیار نہیں۔ طویل عرصے سے جاری اس اختلاف پر جمعہ اور ہفتے کے روز طویل اور حتمی مذاکرات ہوئے جس میں دونوں اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔ افغانستان متعین ڈچ افواج کو طے شدہ منصوبے کے مطابق رواں سال اگست تا دسمبر ہالینڈ لوٹنا تھا البتہ نیٹو کی درخواست پر وزیراعظم اس مشن میں توسیع چاہ رہے تھے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے کسی دوسرے رکن ملک کی جانب سے ڈچ فوج کا متبادل فراہم نہ کرنا بھی ڈچ وزیراعظم کی اس خواہش کی اہم وجہ تھی۔

Ausländische Würdenträger vor dem Kongress

ڈچ ملکہ Beatrix Wilhelmina Armgard

ہالینڈ کا شمار افغان مشن کے لئے فوج فراہم کرنے والے دس سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے۔ اس یورپی ملک کے لگ بھگ دو ہزار اہلکار افغان صوبے ارزگان میں تعنیات ہیں۔ سال دو ہزار ایک سے جاری افغان مشن میں ہالینڈ نے پانچ سال بعد یعنی دوہزار چھ میں شمولیت اختیار کی اور تب سے اب تک اس کے اکیس فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہالینڈ کے فوجیوں کو اس سال کے آخر میں افغانستان سے واپس بلایا جانا ہے۔ ہالینڈ کی پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں ایک قرار داد بھی منظور کر رکھی ہے لیکن حکومت نے اس قرار داد کی توثیق نہیں کی ہے۔ لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہالینڈ کے وزیر خزانہ نے وزیر اعظم سے اس قرار داد کی فوری توثیق کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دفاعی امور کے ماہر ایڈون بیکر کے بقول موجودہ حالات میں افغانستان سے کسی نیٹو رکن کی فوج کا واپس جانا عسکری اعتبار سے انتہائی منفی ثابت ہوسکتا ہے۔

دریں اثنا نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے تجویز پیش کی ہے کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ’قدرے چھوٹا ڈچ مشن‘ بہتر حل ہے۔ نیٹو کے ترجمان James Appathurai نے سیکریٹری جنرل کا ردعمل بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجویز کے ذریعے افغانستان میں ہالینڈ کی جانب سے اب تک فراہم کی گئی خدمات کا ثمر حاصل ہوسکے گا۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM