1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے متعلق مذاکراتی عمل میں پہلی بار بھارت بھی شامل

روس افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک نئے مذاکراتی عمل کی میزبانی کرے گا۔ کابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین مکالمت کی بحالی کے لیے اہتمام کردہ ان مذاکرات میں پہلی بار بھارت کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

یہ بات چیت اسی مہینے کے وسط میں روسی دارالحکومت ماسکو میں ہو گی اور اس میں، روسی وزیر خارجہ کے مطابق، افغانستان، ایران، چین، پاکستان، روس اور بھارت حصہ لیں گے۔

اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو اس بات چیت میں شرکت کی دعوت موصول ہوگئی ہے۔ ان ذرائع نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’افغانستان کے حوالے سے سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر پاکستان ہے۔ افغانستان کے اندرونی حالات کا پاکستان پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان اور پورے خطے کے مفاد میں ہے۔‘‘

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس گفتگو کے لیے امریکا کو اب تک مدعو نہیں کیا گیا، جو افغان مسئلے کا ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ اس کا مطلب ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روس اور چین مل کر افغانستان کے حوالے سے ایک علاقائی حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم روسی میڈیا نے ایک ملکی سفارت کار کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ روس میں اس مذاکراتی عمل میں امریکا کو مدعو کیا بھی جا سکتا ہے، اگر واشنگٹن یہ فیصلہ کر لے کہ اس جنگ زدہ ملک سے متعلق اس کی پالیسی کیا ہو گی۔ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اپنی افغانستان پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔

ان مذاکرات میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہوں گے۔ لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہو گا کہ افغانستان میں حکومت اور طالبان کے مابین مکالمت کی بحالی کی کوششوں میں پاکستان کا روایتی حریف ملک بھارت بھی شامل ہو گا۔ پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات میں شدید سرد مہری پائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ذرائع نے کہا، ’’پاکستان چاہتا ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں اور تمام مسائل کے پر امن حل نکالے جائیں۔‘‘

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے اپنے افغان ہم منصب کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کل منگل کے روز کہا تھا، ’’ہمیں توقع ہے کہ  تمام ممالک اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔‘‘ اسی پریس کانفرنس کے دوران لاوروف نے کہا تھا کہ ان کی افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان کی طالبان تحریک کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کابل حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کا حصہ بننا ہو گا۔