1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان سے متعلق علاقائی کانفرنس بلانے کا ایرانی اعلان

ایرانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کے موضوع پر ایک علاقائی اجلاس منعقد کرائے گی۔ ایرانی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس اجلاس میں افغانستان کے پڑوسی ممالک کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

default

تہران حکومت کے ایک اہلکار رامین مہمان پرست نے بتایا کہ اس اجلاس کا مقصد افغانستان میں سلامتی کی صورتحال اور اسے مزید مستحکم بنانے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کرنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اجلاس تہران حکومت کی ان کوششوں کا حصہ ہے، جن کے تحت منشیات فروشوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ تاہم رامین مہمان پرست نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کانفرنس کب منقعد کرائی جائے گی۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مہمان پرست کا مزید کہنا تھا کہ اگر جنگ سے تباہ حال افغانستان کے پڑوسی اور دیگر ممالک اس سلسلے میں تعاون کرنا چاہتے ہیں، توانہیں علاقائی سطح پر کئے جانے والے ان اقدامات کی تائید کرنا ہو گی۔

Iran begrüßt regionalen Afghanistan Ansatz

ایران افغانستان کے مسئلے کو علاقائی سطح پر حل کرنے کا خواہاں ہے

ساتھ ہی انہوں نے امریکہ سمیت بعض مغربی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان میں جاری بحران کے حل میں رکاوٹیں ڈالنے کے بجائے اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ ایران کے لئے افغانستان اور عراق میں پائیدار استحکام کو یقینی بنانا کس قدراہم ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے چھوٹے پیمانے پر ایک کانفرنس کی میزبانی کی تھی، جس میں افغان صدر حامد کرزئی اور تاجک صدر امام علی رحمانوف شریک ہوئے تھے۔ اس موقع پر ایرانی صدر نے افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کی تعیناتی کی مذمت کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ خطے کے ممالک کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

Symbolbild USA Iran Afghanistan

امریکہ نے ایران سمیت خطے کی کئی دوسری ریاستوں کو افغانستان کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں میں شامل کرنے کی کاوش کی تھی

احمدی نژاد کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو اور اس کے اتحادی افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اب یہ مسئلہ کوئی اور نہیں بلکہ صرف افغانستان کے پڑوسی ممالک ہی حل کر سکتے ہیں۔

امریکہ اور ایرانی حکومت کے کشیدہ تعلقات کے باوجود کابل اور تہران کے باہمی راوبط بہت مضبوط ہیں۔ تاہم اختلافات کے باوجود امریکہ اور ایران دونوں ہی طالبان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، جو1996ء سے لے کر2001 ء تک افغانستان پرحکومت کر چکے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ نے ایران سمیت خطے کی کئی دوسری ریاستوں کو افغانستان کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں میں شامل کرنے کی کاوش کی تھی، لیکن واشنگٹن اور تہران کے مابین سفارتی تعلقات نہ ہونے وجہ سے یہ معاملہ کٹھائی میں ہی پڑا رہا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس