1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے فوجی انخلاء، اوباما کا قوم سے خطاب آج

امریکی صدر باراک اوباما آج بدھ کو متوقع طور پر افغانستان سے امریکی فوجوں کے جزوی انخلاء کے پروگرام کا اعلان کرنے والے ہیں۔ یہ دس سالہ جنگ امریکہ کے لیے مسلسل انتہائی مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔

default

واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق باراک اوباما آج جو اعلان کرنے والے ہیں، اس میں وہ اگلے مہینے یعنی جولائی میں افغانستان سے پانچ ہزار تک فوجیوں کے انخلاء کی بات کریں گے۔ اس کے بعد سال رواں کے آخر تک جنگ زدہ افغانستان سے واشنگٹن غالباً اپنے مزید پانچ ہزار تک فوجی واپس بلا لے گا۔ یہ امریکی انخلاء کے عمل کا پہلا مرحلہ ہو گا۔ اس فوجی انخلاء کے پروگرام کے تحت امریکی صدر ممکنہ طور پر یہ فیصلہ بھی کر سکتے ہیں کہ سن 2012 کے آخر تک واشنگٹن اپنے مزید 30 ہزار فوجی واپس بلا لے گا۔ افغانستان میں یہ اضافی فوجی صدر اوباما نے 18 مہینے پہلے بھیجے تھے۔ تب اس فیصلے کا مقصد افغان مشن کو محدود مدت کے لیے اضافی فوجی قوت مہیا کرنا تھا۔

NO FLASH US-Truppen lassen afghanische Gefangene frei

امریکہ کے افغانستان سے اس فوجی انخلاء سے متعلق مذاکراتی عمل کے قریب رہنے والے افراد اور کانگریس کے ذرائع کے مطابق صدر اوباما نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی سے متعلق اپنا حتمی فیصلہ کل منگل کے روز کر لیا تھا۔ امریکی ذرائع کے مطابق اپنے اس فیصلے میں باراک اوباما یہ بھی طے کر چکے ہیں کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کا حجم اور رفتار کیا ہو گی۔ امریکی صدر اپنے اس منصوبے کی تفصیلات آج بدھ کو وائٹ ہاؤس سے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں بیان کریں گے۔ باراک اوباما اپنا یہ خطاب رات آٹھ بجے کریں گے، جب عالمی وقت کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بارہ بجے کا وقت ہو گا۔

Afghanistan Anschlag auf Bundeswehr Verletzter Kabul Armee Februar 2011 NO FLASH

باراک اوباما کا افغانستان سے فوجی انخلاء کا اعلان ایک ایسے وقت پر کیا جا رہا ہے، جب امریکی کانگریس کی طرف سے ان پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان کا صدر اوباما سے مطالبہ ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی فوجی مشن کے آخری مرحلے کا آغاز کر دیں۔ خود امریکی فوج کی طرف سے بھی باراک اوباما سے یہ اپیلیں کی جا رہی ہیں کہ وائٹ ہا ؤس کو ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، جس کے نتیجے میں طالبان کی مسلح مزاحمت کے خلاف وہاں امریکی فوج اپنے ہاتھ بندھے ہوئے محسوس کرے۔

واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں میں تجزیہ نگاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ، امریکی مشن اور فوجی انخلاء کے حوالے سے باراک اوباما سے مختلف فریق مختلف مطالبات کر رہے ہیں۔ ان مطالبات کے حق میں دلیلیں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان میں ایک طرف اگر وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور فوجی کمانڈروں کی سوچ ہے، تو دوسری طرف سیاسی مشیروں اور اقتصادی ماہرین کی رائے ہے۔ اسی لیے اس بارے میں شبہات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلاء کے اپنے آج کے اعلان کے ساتھ باراک اوباما ہر کسی کو مطمئن کر سکیں گے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس