1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے غیر منظم انخلاء صورتحال پیچیدہ کر سکتا ہے، برطانوی جنرل

برطانوی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل جیمز بُکنل نے کہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کا غیرمنظم انخلاء وہاں اب تک دی جانے والی قربانیوں کو رائیگانی میں تبدیل کر سکتا ہے، اس لیے فوجی انخلاء ایک مربوط انداز میں ہونا چاہیے۔

default

اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں سینئر برطانوی فوجی کمانڈر جیمز بُکنل نے کہا، ’ہم پر ان افراد کا قرض ہے، جو اپنی خدمات کا نتیجہ دیکھے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اپنے خون کے گراں قدر سرمایے کی فراہمی کے بعد ہم مزید پرعزم ہیں۔ اگر میں ایسا سوچتا کہ ہم کچھ بہتر نہیں کر پائیں گے، تو میرے خیالات کچھ اور ہوتے، مگر مجھے یقین ہے کہ ہم وہاں (افغانستان میں) بہتری لا سکتے ہیں۔‘

برطانوی اخبار گارڈین کو دیے گیے اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل میں کبھی طالبان اتنے طاقتور ہو پائیں گے کہ افغانستان کا کنٹرول دوبارہ سنبھال سکیں۔

Afghanistan Anschlag Selbstmordattentat Flash-Galerie

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا سن 2014 کے اواخر تک مکمل ہونا طے ہے

جنرل جیمز بُکنل کے مطابق، ’رواں برس ایک سو چالیس افغان شہریوں کو طالبان نے ہلاک کیا جبکہ ہم ہر ماہ درمیانے درجے کی طالبان قیادت کے 130 تا 140 عسکریت پسندوں کو ہلاک یا گرفتار کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ طالبان کی طاقت کے مراکز سمجھے جانے والے علاقے بھی اب طالبان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ ’’ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں، جن سے یہ ظاہر ہو کہ طالبان افغانستان کے کسی علاقے پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں یا کسی علاقے میں ان کے اثر رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ افغانستان کا دارالحکومت کابل پاکستان کے تجارتی شہر کراچی سے زیادہ محفوظ ہے۔ گزشتہ برس امریکہ کی جانب سے 30 ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے اقدامات کی نگرانی کرنے والے جنرل بُکنل نے مغربی دنیا سے اپیل کی کہ وہ اگلے دو برسوں میں افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلاء کے منصوبے پر مل جل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے خلاف جنگ کا آغاز مغربی دنیا نے اتحاد کے ساتھ کیا تھا، اب ویسے ہی وہاں سے فوجیوں کا انخلاء بھی باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: حماد کیانی

DW.COM