1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء پر جرمنی کے تحفظات

جرمن وزیر دفاع اُرسلا فان ڈیئر لاین نے کہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج زیادہ دیر تک تعینات رہنا چاہییں اور ان افواج کے انخلاء کے لیے کوئی بھی فیصلہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔

Tallinn Ursula von der Leyen NATO Cooperative Cyber Defence Centre of Excellence

جرمن وزیر دفاع اُرسلا فان ڈیئر لاین نے کہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج زیادہ دیر تک تعینات رہنا چاہییں

خبر رساں ادارے روئٹرز نے جرمن وزیر دفاع اُرسلا فان ڈیئر لاین کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا فوری انخلاء سکیورٹی کی صورتحال میں ابتری کا باعث بن سکتا ہے۔ خاتون وزیر دفاع نے غیر محسوس طریقے سے امریکا کے اس پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جس کے تحت وہ افغانستان سے اپنی افواج کو جلد از جلد وطن واپس بلانا چاہتا ہے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو رکن ممالک کے وزرائے دفاع کی میٹنگ میں شرکت کے لیے برسلز پہنچنے والی ڈیئر لاین نے کہا، ’’ہمیں یہ پرکھنا پڑے گا کہ ہمیں کیا حکمت عملی اختیار کرنا چاہیے۔ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا افغانستان میں غیر ملکی افواج زیادہ دیر تک تعینات رکھی جا سکتی ہیں۔‘‘ قندوز پر طالبان کے حالیہ حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، ’’جس طرح ماضی میں ہم نے مل کر افغان عوام کا ساتھ دیا ہے، وہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔‘‘

اگرچہ قندوز شہر کو طالبان کے قبضے سے آزاد کرا لیا گیا ہے لیکن جنگجوؤں کی اس شدید کارروائی کے نتیجے میں ایسے شکوک مزید پکے ہوئے ہیں کہ شاید افغان فورسز ایسے حملوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہو سکی ہیں۔ افغان فورسز کو نیٹو نے ہی تربیت دی ہے لیکن مبصرین کے بقول ابھی یہ فوج غیر ملکی فورسز کی مدد کے بغیر طالبان سے نبرد آزما نہیں ہو سکتیں ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ نیٹو کی قیادت میں جرمن فوجی دستے بھی افغانستان میں تعینات رہے لیکن یہ فوجی افغانستان میں تعمیراتی اور تربیتی پروگرامز کا حصہ رہے۔ برلن حکومت متعدد مرتبہ یقین دہانی کرا چکی ہے کہ وہ افغان حکومت اور عوام کے ساتھ اپنے تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

Afghanistan Selbstmordanschlag auf NATO Konvoi bei Jalalabad

ایک وقت میں قندوز میں جرمنی کے انیس سو فوجی تعینات تھے لیکن اب یہ تعداد کم کر کے صرف 870 کی جا چکی ہے

جرمن وزیر دفاع اُرسلا فان ڈیئر لاین کے بقول، ’’میں اپیل کرتی ہوں کہ ہمیں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے لیے ایک سخت نظام الاوقات طے نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں زمینی حقائق دیکھنا چاہییں اور اس ملک سے فوجیوں کی واپسی کے لیے مقامی حکومت سے مرحلہ بہ مرحلہ رابطہ کاری کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں افغان فورسز کو سکیورٹی کی ذمہ داری سونپتے وقت یہ یقینی بنانا چاہیے کہ وہ یہ بڑی ذمہ داری نبھانے کے قابل ہیں۔

ایک وقت میں قندوز میں جرمنی کے انیس سو فوجی تعینات تھے لیکن اب یہ تعداد کم کر کے صرف 870 کی جا چکی ہے۔ منصوبہ جات کے مطابق افغانستان کا موجودہ غیر ملکی فوجی مشن 2016ء کے اواخر میں ختم ہو جانا ہے۔ تاہم روئٹرز نے نیٹو ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمن وزیر دفاع نیٹو کے اس اجلاس میں افغانستان میں غیر ملکی افواج کی تعیناتی کے لیے یہ وقت بڑھانے کے سلسلے میں پر زور دیں گی۔