1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے دو جرمن شہریوں کے اغوا کا خدشہ

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان کے صوبہ پروان میں لاپتہ ہوجانے والے دو جرمن کوہ پیما ممکنہ طور پر اغوا کر لیے گئے ہیں۔

default

برلن میں پریس کانفرنس کے موقع پر ویسٹرویلے کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں ان دو جرمن باشندوں کے لاپتہ ہوجانے کی تصدیق تو کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی ان کے اغوا ہوجانے کے امکان کو بھی خارج قرار نہیں دیتے۔ اس سے قبل افغانستان کے مشرقی صوبے پروان میں انتظامیہ نے جرمن باشندوں کے لاپتہ ہوجانے کی خبر عام کی تھی۔ پروان کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ دو جرمن شہری شمالی ضلع سالنگ میں گھوم رہے تھے۔ پروان کے گورنر کی ترجمان روشنا خالد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’ان کا ڈرائیور قومی سلامتی سے متعلق دفتر میں اکیلا پہنچا اور بتایا کہ جرمن باشندے واپس نہیں لوٹے۔‘  روشنا خالد کے مطابق کابل حکومت نے علاقے میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سرچ آپریشن کیا اور سکیورٹی فورسز کے دستے بھی بھیجے، تاہم جرمن باشندوں کا سراغ نہیں مل سکا۔

Anschlag auf einen deutschen Kommandeur in Afghanistan

دونوں افراد کی تلاش جاری ہے

ان کے مطابق سالنگ میں پہاڑی آبادی سے درخواست کی گئی ہے کہ ان جرمن باشندوں کی تلاش میں فورسز کا ساتھ دیں۔ افغانستان میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اغواء برائے تاوان کی کئی وارداتیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ان وارداتوں میں مالدار گھرانوں کے افراد اور غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس طرز کی وارداتوں میں طالبان عسکریت پسندوں سے ملے ہوئے افراد بھی ملوث تصور کیے جاتے ہیں، جو ان کارروائیوں سے مالی سہارے کے ساتھ ساتھ دیگر اہداف بھی حاصل کرتے ہیں۔

اس واقعے سے متعلق البتہ فوری طور پر طالبان یا کسی دوسرے گروہ کی جانب سے کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ وہ ان دو جرمن باشندوں کے اغواء سے متعلق فی الحال کوئی معلومات نہیں رکھتے۔

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے نے ممکنہ طور پر اغوا شدہ ان جرمن شہریوں کی مزید شناخت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔ جرمنی کے لگ بھگ پانچ ہزار فوجی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے تحت افغانستان میں سلامتی سے متعلق خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جرمنی کے تعاون سے اس شورش زدہ ملک میں تعمیر نو اور ترقی کے بھی متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM