1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے جرمن ٹورناڈو طیاروں کی واپسی

جرمنی کہا ہے کہ وہ افغانستان مشن پر موجود اپنے چھ ٹورناڈو جیٹ طیارے واپس بلوا رہا ہے۔ یہ طیارے حملوں کے بجائے فضائی تصاویراتارنے اور دشمن کی طرف سے خفیہ معلومات اکٹھی کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔

default

مزار شریف میں جرمن ٹورناڈو لینڈ کرتے ہوئے، ساتھ ہی کچھ جرمن فوجی بیٹھے ہیں

جرمن حکام نے بتایا ہے کہ ان طیاروں کی واپسی، وزیر دفاع کارل تھیوڈور سو گٹن برگ کی نئی دفاعی حکمت عملی کے نتیجے میں ہو رہی ہے۔ جمعرات کو جرمن وزیر دفاع سوگٹن برگ نے پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ ان طیاروں کو افغانستان سے واپس بلوانے کے بدلے میں وہاں مزید جرمن فوجی تعینات کئے جائیں گے، جو افغان فوجیوں کی تربیت کا کام کریں گے۔

جدید سہولتوں سے آراستہ یہ جاسوس جیٹ طیارے گزشتہ ساڑھے تین سال سے افغانستان میں استعمال کئے جا رہے ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ شمالی افغانستان کے شہر مزار شریف کے فوجی ہوائی اڈے پر موجود ان طیاروں کو نومبر تک واپس بلوا لیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق ضرورت پڑنے پر یہ طیارے فوری طور پر افغانستان دوبارہ بھیجے جا سکتے ہیں۔

Deutschland NATO Afghanistan Tornado

یہ طیارے فضائی تصاویر اتارنے کے علاوہ جاسوسی کا کام کرتے ہیں

خیال رہے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے جرمن حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے اس فضائی مشن کے بدلے میں وہاں عسکری تربیت دینے والے فوجی دستے روانہ کرے۔ اس وقت ان طیاروں کے پائلٹ اور دیگر تکنیکی عملے پر مشتمل تقریباﹰ 90 جرمن فوجی اہلکار افغانستان میں تعینات ہیں۔ ان طیاروں کی واپسی کے ساتھ ہی یہ فوجی اہلکار بھی وطن واپس آ جائیں گے ، جس کےبدلے میں جرمن حکومت اتنے ہی دیگر فوجی افغانستان بھیج سکے گی۔

جرمن پارلیمنٹ کی اجازت کے مطابق زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار جرمن فوجی افغانستان میں تعنیات کئے جا سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید ساڑھے تین سو اضافی فوجی بھی وہاں بھیجے جاسکتے ہیں۔ اس وقت چارہزار پانچ سو نوے جرمن فوجی افغانستان میں طالبان باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کی تعداد تقریباﹰ ڈیڑھ لاکھ ہے جبکہ تین لاکھ افغان سکیورٹی اہلکار بھی وہاں طالبان کی بغاوت کچلنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔

رپورٹ ، عاطف بلوچ

ادارت ، ندیم گِل

DW.COM