1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے جرمن فوج کے انخلاء کا منصوبہ

شورش زدہ ملک افغانستان میں غیر ملکی افواج کے انخلاء کے لیے سن 2014 کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ کئی ممالک اپنی اپنی فوجوں کی واپسی کے نظام الاوقات کو مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔

default

افغانستان میں متعین جرمن فوجیوں کے لیے مجوزہ نظام الاوقات کو وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے اور وزیر دفاع تھوماس ڈے میزیئر نے ترتیب دیا ہے۔ اس مناسبت سے جرمن وزیر خارجہ نے پارلیمانی گروپ کو ایک خط بھی تحریرکیا ہے۔ اس خط میں ویسٹرویلے نے موجودہ اور مستقبل کی سکیورٹی کی صورت حال کے ساتھ ساتھ افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔

مجوزہ منصوبےکے تحت افغانستان سے اگلے سال فروری میں کم از کم پانچ سو فوجی واپس طلب کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اگر یہ فوجی واپس آ گئے تو جرمن فوجیوں کی تعداد پانچ ہزار سے کم ہو جائے گی۔ اسی طرح آئندہ برس کے اواخر میں مزید پانچ سو فوجی واپس بلانے کو پلان میں شامل کیا گیا ہے۔

Afghanistan Deutschland Angela Merkel in Kundus Bundeswehr

جرمن چانسلر قندوز میں

جرمن کابینہ دسمبر میں اپنے افغانستان مینڈینٹ پر بحث کرے گی، جس کے بعد اسے منظوری کے لیے ایوان زیریں بھیجا جائے گا۔ جرمن افواج نے ایک دہائی قبل مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے مشن کے لیے افغانستان میں اپنے فوجی تعینات کیے تھے۔

افغانستان میں متعین غیر ملکی افواج میں جرمن فوج کا دستہ فوجیوں کی تعداد کے لحاظ سے تیسرا بڑا دستہ ہے۔ افغانستان میں سب سے زیادہ امریکی فوج متعین ہے۔ اس کے بعد برطانوی فوج ہے۔ افغانستان میں جرمنی کے کل پانچ ہزار 350 فوجی تغینات ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد بیرون ملک جرمن فوج کی سب سے بڑی تعیناتی ہے۔ فوجیوں کی تعیناتی کا حکومتی فیصلہ عوامی سطح پر غیر مقبولیت کا حامل ہے۔

افغانستان میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی جانب سے بین الاقوامی حفاظتی امن فوج ISAF میں رکن ملکوں کے علاوہ کئی اور پارٹنر ملکوں کے دستے بھی شامل ہیں۔ سب سے پہلے سن 2007 میں جنوبی کوریا نے اپنے فوجی واپس بلائے تھے۔ سوئٹزر لینڈ، ہالینڈ اور اردن کے فوجی بھی اپنے اپنے ملکوں کو واپس جا چکے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس