1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے انخلاء: اوباما کا فیصلہ کل سامنے آئے گا

امریکی صدر باراک اوباما افغانستان میں تعینات اپنے فوجیوں کے انخلاء سے متعلق فیصلے کا اعلان بدھ کو کر رہے ہیں۔ انخلاء کا عمل آئندہ ماہ سے شروع ہو رہا ہے۔

default

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اوباما انتطامیہ کے دو اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر افغانستان سے انخلاء کے پروگرام پر غور و خوض کے نتائج سے آگاہ کریں گے۔

افغانستان میں امریکہ کے ایک لاکھ فوجی موجود ہیں اور صدر باراک اوباما فوجیوں کے انخلاء کی رفتار اور ان کی تعداد طے کریں گے۔

اوباما کے ترجمان جے کارنی نے قبل ازیں پیر کو کہا تھا کہ صدر تاحال اس منصوبے کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور ابھی تک کسی فیصلے پر نہیں پہنچے۔

دسمبر 2009ء میں اوباما نے جنگ کی نئی حکمت عملی متعارف کروائی تھی، جس کا مقصد دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی شکست اور اسے توڑنا، طالبان کی تحریک کو نقصان پہنچانا اور کابل حکومت کو سکیورٹی ذمے داریاں خود سنبھالنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ کارنی کا کہنا ہے: ’’ان اہداف کے حصول میں ہمیں خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ظاہر ہے، اسامہ بن لادن کا خاتمہ اس پیش رفت کا سب سے اہم موڑ تھا۔‘‘

دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو گزشتہ ماہ امریکی خفیہ آپریشن میں پاکستانی علاقے ایبٹ آباد میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

Obama im Situation Room Flash-Galerie

امریکی صدر باراک اوباما

اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے بعض ذرائع نے صرف پانچ ہزار فوجیوں کی کٹوتی پر زور دیا ہے۔ تاہم بعض زیادہ فوجیوں کا انخلاء چاہتے ہیں۔ سینیٹر کارل لیون نے سفارش کی ہے کہ رواں برس پندرہ ہزار فوجی گھروں کو بلا لیے جائیں۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اتوار کو ایک انٹرویو میں افغانستان سے تیز تر انخلاء پر محتاط رویہ اختیار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا: ’’وہ (اوباما) جو بھی فیصلہ کریں، افغانستان میں ہمارے فوجیوں کی خاصی تعداد موجود رہے گی۔‘‘

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے یہ بھی کہا کہ کابل حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے لیے جاری کوششوں کی کامیابی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس

ملتے جلتے مندرجات