1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلاء سست کرنے کا فیصلہ

امریکی صدر آج جمعرات کے روز ایک اعلان کرنے والے ہیں جس کے مطابق افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کی رفتار سست کر دی جائے گی اور امریکی فوجیوں کی موجودہ تعداد یعنی 9800 سال 2016ء کے آخر تک افغانستان میں موجود رہے گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ بات ایک سینیئر امریکی اہلکار کے حوالے سے بتائی ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما کا منصوبہ تھا کہ ان کے جنوری 2017ء میں دفتر چھوڑنے سے قبل افغانستان میں موجود امریکی سفارتخانے میں بہت کم تعداد میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے علاوہ باقی تمام امریکی فوجیوں کو وطن واپس بلا لیا جائے۔ تاہم نئے منصوبے کے مطابق اب سال 2017ء کے دوران کسی وقت فوجیوں کی تعداد کم کر کے 5500 تک کر دی جائے گی اور یہ فوجی افغانستان کے اندر چار مختلف مقامات پر تعینات رہے گی۔ ان میں کابل، بگرام، جلال آباد اور قندھار شامل ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے سینیئر حکام کے مطابق یہ فیصلہ امریکی صدر باراک اوباما، افغان رہنماؤں، پینٹاگان، افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈرز اور وائٹ ہاؤس کے مشیروں کے درمیان کئی مہینوں تک جاری رہنے والی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے، جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ امریکا افغانستان کی بہتر سے بہتر مدد کس طرح کر سکتا ہے۔

حکام کے مطابق امریکی فوجی افغان فورسز کو تربیت اور مشاورت فراہم کرتے رہیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند کسی صورت میں امریکی سکیورٹی کے لیے خطرات نہ بن سکیں: ’’ہمارا مشن تبدیل نہیں ہو گا۔‘‘

نئے منصوبے کے مطابق اب سال 2017ء کے دوران کسی وقت فوجیوں کی تعداد کم کر کے 5500 تک کر دی جائے گی

نئے منصوبے کے مطابق اب سال 2017ء کے دوران کسی وقت فوجیوں کی تعداد کم کر کے 5500 تک کر دی جائے گی

امریکی سربراہی میں اتحادی افواج نے اپنے 13 سالہ جنگی مشن کا اختتام سال 2014ء کے آخر میں کیا تھا۔ اس کے بعد سے افغان فورسز ملکی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ انہیں امریکی اور نیٹو افواج کا تعاون حاصل ہے۔

تاہم طالبان کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں افغان سکیورٹی فورسز کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر جب انہوں نے ملک کے ایک شمالی شہر قندوز پر کچھ وقت کے لیے قبضہ بھی کر لیا تھا۔ امریکی ملٹری اور ملکی انتظامیہ رواں برس مارچ میں افغان صدر اشرف غنی کے دورہ واشنگٹن کےبعد سے افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کی رفتار میں کمی لانے پر غور کر رہے تھے۔ امریکی اہلکار کے مطابق افغان حکومت اس تبدیلی سے مطمئین ہے اور ان کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کچھ وقت سے کیا جا رہا تھا۔