1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء میں جلد بازی نہیں دکھائی جائے گی، نیٹو

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی افواج کے انخلاء میں جلد بازی میں نہیں دکھائی جائے گی بلکہ اس حوالے سے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔

default

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس

برسلز منعقدہ نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ اگرچہ امریکی حکومت نے افغانستان سے اپنے فوج کی واپسی کا منصوبہ بنا رکھا ہے لیکن اس منصوبے پر عمل جلد بازی میں نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے کہا،’ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری طرف سے کوئی جلدبازی نہیں برتی جائے گی اور میں اپنے اتحادیوں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتا ہوں‘۔

Deutschland Bundestag Verteidigungsminister Thomas de Maiziere

جرمن وزیر دفاع تھوماس ڈے میزیئر

رابرٹ گیٹس نے کہا کہ غیر ملکی افواج نے افغانستان میں اہم پیش رفت کی ہے،’ اگر ہم نے سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کو سونپتے ہوئے رابطہ کاری سے کام نہ لیا تو جو ہم نے حاصل کیا ہے، اسے نقصان پہنچ سکتا ہے‘۔

جرمن وزیر دفاع تھوماس ڈے میزیئر نے کہا کہ افغانستان میں جنگی مشن کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ وہاں تمام تر کارروائیاں ختم کر دی جائیں گی،’ ہم اپنا فوجی مشن 2014ء تک ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ جس کے بعد وہاں دیگر نوعیت کا کام کیا جائے گا۔ لیکن اگر حالات سازگار رہے تو اس سال کے اختتام پر یا آئندہ برس سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کا مرحلہ وار عمل شروع کر دیا جائے گا‘۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے بھی کہا کہ افغانستان سے افواج کے انخلاء میں کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جائے گی،’ آج کی میٹنگ میں یہ بات طے ہو گئی ہے‘۔

دوسری طرف امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے موجودہ سربراہ لیون پنیٹا نے بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بارے میں جلد بازی دکھانے کے حق میں نہیں ہیں۔ رابرٹ گیٹس کی جگہ وزیر دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کیے گئے پنیٹا نے کہا کہ وہ گیٹس کے پالیسیوں پر عمل پیرا رہیں گے۔

NATO Verteidigungsminister Brüssel Belgien Treffen

نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس کا ایک منظر

امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی سماعت کے موقع پر 72 سالہ پنیٹا نے کہا،’ اگر ہم افغانستان کی جنگ ہار جاتے ہیں تو ہم نہ صرف القاعدہ کے لیے محفوظ ٹھکانے بنا دیں گے بلکہ اس سے دنیا ایک بڑے خطرے میں گھر جائے گی‘۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس