1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء سست روی سے

افغانستان سے امسال موسم گرما میں محض آٹھ سو امریکی فوجی اور موسم خزاں میں بھی آٹھ سو فوجی ہی افغانستان سے واپس بلا ئے جائیں گے۔

default

امریکی لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ روڈریگیز اور بعض پینٹاگون افسران نے پہلی مرتبہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا تفصیلی خاکہ پیش کیا ہے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے حال ہی میں افغانستان سے امریکی افواج کے مرحلہ وار انخلاء کا اعلان کیا تھا، جس پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔ امریکی صدر کے فیصلے کے مطابق آئندہ برس تک تینتیس ہزار امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لیا جائے گا۔ امریکی حزب اختلاف کی جماعت ریپبلکن پارٹی نے صدر اوباما پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے انخلاء کے لیے ایک ’جارحانہ‘ حکمت عملی اختیار کی ہے۔

Obama während der Rede an die Nation

ریپبلکن جماعت نے صدر اوباما کی انخلاء کی حکمت عملی پر تنقید کی ہے

تاہم توقع کے برخلاف افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلاء سست روی سے ہو رہا ہے۔ گو کہ صدر اوباما کے اعلان کے مطابق اس سال کے اختتام تک دس ہزار امریکی فوجیوں کو افغانستان سے نکال لیا جائے گا، تاہم صدر اوباما نے اس حوالے سے تفصیلات طے کرنے کا اختیار فوجی کمانڈروں کو دے دیا ہے۔

جنرل روڈریگیز کا کہنا ہے: ’’ہم نے اس حوالے سے معاملات طے کرنا شروع کر دیے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہم افغان سکیورٹی فورسز کو سکیورٹی کی ذمہ داریاں مرحلہ وار طریقے سے دیں گے۔‘‘

امریکی فوجی افسران کے مطابق دس ہزار میں سے زیادہ تر فوجیوں کا انخلاء سال کے آخری مہینوں میں ہوگا۔

امریکی سینیٹر اور سابق صدارتی امیدوار جان میک کین نے اتوار کے روز کابل کے اپنے دورے میں صدر اوباما پر کڑی تنقید کرتے ہوئے امریکی افواج کے اتنی بڑی تعداد میں انخلاء کے فیصلے کو ’غیر ضروری طور پر پُر خطر‘ قرار دیا تھا۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM