1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان سےامریکی فوج کا انخلاء، کب اور کیسے

واشنگٹن انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلاء سے متعلق اوباما کے منصوبے پر تنقید مسترد کر دی ہے۔ اوباما کے اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ ریپبلیکنز نے بنایا ہے۔

default

انہوں نے اسے طالبان کے لئے ممکنہ حوصلہ افزائی کا باعث قرار دیا ہے۔ سینیٹر جان میکین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے شدت پسندوں کو غلط پیغام بھیجا گیا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ افغان مشن کے لئے فوجیوں میں اضافہ کرے گی، لیکن ان کی افغانستان سے واپسی کا عمل بھی جولائی 2011ء میں شروع کر دیا جائے گا۔

وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن برسلز میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس کہہ چکی ہیں کہ جولائی سن دو ہزار گیارہ سے افغانستان میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں منتقل کرنے کے عمل کا آغاز کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ یہ تاریخ حتمی نہیں جبکہ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ یہ محض اس عمل کا آغاز ہے۔

UAV Unbemannte Aufklärungsdrohne der US Armee

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس

ری جانب کابل حکومت بھی اس حوالے سے تشویش ظاہر کر چکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اپنی افواج کے تیز تر انخلاء کی صورت میں وہ حالات پر قابو نہیں پا سکے گی۔

رابرٹ گیٹس کہتے ہیں، 'ڈیڈ لائن کوئی نہیں۔' ان کا کہنا ہے کہ افغان حکام کو ضلع بہ ضلع ذمہ داریاں سونپنے کا کام حالات کے تناظر میں کیا جائے گا اور فوجی بتدریج گھروں کو لوٹیں گے۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ کابل حکومت کو مقامی سطح پر فوجی بھرتی کرنے، ان کی تربیت اور انہیں محاذ پر بھیجنے پر توجہ دینی چاہئے اور صدر اوباما اسی پہلو پر زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکمت عملی کتنی مؤثر ہے، اس کا پتا جولائی 2011ء میں چل جائے گا۔

گیٹس نے یہ بھی کہا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ٹھکانے سے متعلق کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سالوں سے اسامہ کی نقل حرکت کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل سکا۔

اوباما مزید تیس ہزار فوجی جلد سے جلد افغانستان بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں، جس سے وہاں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہو جائے گی۔ اس اضافے کا مقصد انہوں نے القاعدہ کو شکست دینا بتایا۔

امریکہ کے علاوہ نیٹو کے دیگر رکن ممالک نے بھی سات ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ملک پاکستان نے نیٹو کی جانب سے وہاں مزید فوجیوں کی تعیناتی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اسلام آباد حکام کا کہنا ہے کہ اس سے افغان شدت پسند پاکستان کا رُخ کریں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM