افغانستان: سکیورٹی اداروں پر حملوں میں 12 افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 25.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: سکیورٹی اداروں پر حملوں میں 12 افراد ہلاک

افغان انٹیلیجنس کے دفتر کے باہر خودکش حملے اور صوبہ ہلمند میں بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کو لے جانے والی ویگن پر بم حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے ایک خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ افغان حکام کے مطابق یہ خودکش حملہ ملکی خفیہ ایجنسی کے دفتر کے داخلی دروازے کے قریب کیا گیا۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش کے مطابق یہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب ملازمین دفتروں کو جا رہے تھے۔ دانش کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام سویلین افراد تھے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق یہ حملہ آور ایک ٹین ایجر تھا اور اس نے افغان انٹیلیجنس کمپاؤنڈ کے داخلی دروازے کے قریب واقع ایک سکیورٹی چیک پوسٹ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ نجیب دانش کے مطابق مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجکر چالیس منٹ پر ہونے والے اس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم تین دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔ جس علاقے میں یہ خودکش حملہ کیا گیا وہ کابل کا ڈپلومیٹک کوارٹر ہے اور اسے گرین زون قرار دیا جاتا ہے۔ اس علاقے میں امریکی سفارت خانہ اور نیٹو کا ہیڈکوارٹر بھی موجود ہے۔ ایک ہفتہ قبل بھی مسلح افراد افغان خفیہ ایجنسی NDS کے تربیتی مرکز میں داخل ہو گئے تھے۔

Afghanistan - Selbstmordanschlag in Kabul

افغان انٹیلیجنس دفتر کے قریب ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری دہشت گرد گروپ داعش نے قبول کر لی ہے

افغان انٹیلیجنس دفتر کے قریب ہونے والے اس خودکش حملے کی ذمہ داری دہشت گرد گروپ داعش نے قبول کر لی ہے۔ داعش کی پراپیگنڈا نیوز ایجنسی عماق کے مطابق افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے مرکز پر خودکش حملہ کیا گیا ہے۔

صوبہ ہلمند میں بارڈر سکیورٹی فورس پر حملہ

افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کو لے جانے والی ویگن سڑک کنارے نصب ایک بم کا نشانہ بننے کے نتیجے میں چھ اہلکار ہلاک جبکہ چھ دیگر زخمی ہو گئے۔ اس واقعے میں چھ دیگر اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

صوبہ ہیلمند کے گورنر کے ترجمان عمر زواک کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب یہ واقعہ ضلع مرجاہ میں پیش آیا، جب بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی ایک بکتر بند گاڑی سڑک کنارے نصب ایک بم کا نشانہ بنی۔ ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے تسلیم نہیں کی۔ تاہم طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے ایسے ہزاروں بم نصب کیے گئے ہیں جن کا مقصد افغان سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔

صوبہ ہلمند کا نوے فیصد علاقہ یا تو طالبان کے قبضے میں ہے یا وہ وہاں قبضے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ افیون کی پیدوار کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے۔