1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: سرحد پار سے حملے اور امریکہ کو درپیش خطرات

افغانستان میں واقع وادی ہندوکش کے ایک پہاڑ کی چوٹی پر قائم فوجی پوسٹ ’کامبیٹ آؤٹ پوسٹ مونٹی‘ گو کہ ایک سناسان جگہ پر قائم ہے، تاہم یہ افغانستان کا خطرناک ترین علاقہ بھی ہے۔

default

امریکہ نے کابل حملوں کی ذمہ داری حقانی گرپ پر عائد کی ہے

یہ امریکی چیک پوسٹ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ میں قائم ہے۔ اس چیک پوسٹ کے ذریعے پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے والے عسکریت پسندوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔ پاکستانی سرحد یہاں سے محض تیرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ نیٹو اور افغان حکومت کے مطابق پاکستانی طالبان عموماً اسی راستے سے افغانستان میں دراندازی کرتے ہوئے افغانستان میں پر تشدد کارروائیاں کرتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کابل میں امریکی سفارت خانے پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد تو صورت حال مزید گھمبیر ہو گئی ہے۔ اعلیٰ ترین امریکی عہدیدار واضح طور پر اس حملے کی ذمہ داری افغانستان کی سرحد سے ملحق پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پناہ لیے ہوئے حقانی گروپ پر عائد کر رہے ہیں۔ مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ پاکستانی حکومت پر عسکری گروہ حقانی گروپ کی معاونت کا الزام عائد کرتے ہیں۔ بعض پاکستانی مبصرین بھی پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور حقانی گروپ کے درمیان روابط کی تصدیق کرتے ہیں۔ اسلام آباد ہمیشہ سے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

NO FLASH Afghanistan Kabul Anschlag Taliban NATO UN Botschaften Botschaftsviertel

مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ پاکستانی حکومت پر عسکری گروہ حقانی گروپ کی معاونت کا الزام عائد کرتے ہیں

پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ افغانستان سے ملحق اپنی سرحد کو مکمل طور پر بند یا اس کی نگرانی نہیں کرسکتا ہے۔ اسلام آباد کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرحدی حدود کی حفاظت کرے۔ پاکستان کو یہ بھی شکایت ہے کہ افغانستان سے عسکریت پاکستان میں داخل ہو کر اس کے فوجیوں اور عوامی مقامات پر حملے کرتے ہیں۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کابل میں امریکی ایمبیسی پر حملے کے بعد اب معاملہ بے حد سنجیدہ ہو گیا ہے۔ امریکہ اب پاکستانی حکومت پر فیصلہ کن دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ وہ حقانی گروپ کے خلاف فوجی آپریشن کرے ورنہ عین ممکن ہے کہ امریکہ از خود یہ کارروائی کرے۔ مبصرین کے مطابق اگر امریکہ نے یک طرفہ کارروائی کا فیصلہ کیا تو پاکستان کے ساتھ اس کے پہلے سے کھنچاؤ کے شکار تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

 

DW.COM