1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے طالبان عسکریت پسند بھی فعال

افغانستان میں آنے والے تباہ کُن زلزلے کے بعد آج منگل کو طالبان باغیوں نے متاثرہ علاقوں میں عسکریت پسندوں کی ’مکمل مدد‘ کے لیے اپنے جنگجوؤں کو بھی فعال ہونے کا حکم دے دیا ہے۔

پیر کو ہندو کش کے علاقے میں آنے والے اس طاقتور زلزلے کے نتیجے میں وہاں ہلاکتوں کی تعداد 76 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ اس ہولناک زلزلے کی لائی ہوئی تباہیوں کا مکمل تخمینہ ابھی نہیں لگایا گیا ہے۔

افغانستان میں شورش کا باعث تصور کیے جانے والے طالبان کی طرف سے خیراتی اداروں اور امدادی تنظیموں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ افغانستان میں زلزلہ متاثرین کو امداد فراہم کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں۔

پیر کو آنے والے زلزلے کے بارے میں پہلے اس کی شدت امریکی جیولوجیکل سروے نے 7.7 بتائی تھی لیکن بعد میں اسے 7.5 بتایا گيا ہے۔

Afghanistan Erdbeben Zerstörung in Kabul

متعدد افغان صوبوں میں مکانات تباہ ہوئے ہیں

امدادی کارکنوں کے لیے اپنے کام کی انجام دہی میں بہت دشواریوں کا سامنا ہے۔ افغانستان کے متعدد صوبے پیر کے روز آنے والے زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں تاہم ان صوبوں کے زیادہ تر علاقے طالبان عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ صورتحال حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

دریں اثناء طالبان نے پیر کو ایک بیان میں وعدہ کیا ہے کہ وہ امدادی کارکنوں اور تنظیموں کو متاثرین کی مدد کے لیے رسائی فراہم کریں گے۔ ’سلامک امارات طالبان‘ نامی گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک پیغام میں خیراتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ زلزلہ متاثرین کو شیلٹر، کھانے پینے کی اشیاء اور طبی امداد فراہم کرنے میں پس و پیش نہ کریں۔ اس پیغام میں مزید کہا گیا، ’’اسی طرح اسلامک امارات گروپ اپنے مجاہدین کو متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن امداد فراہم کرنے اور خیراتی اداروں اور امدادی کارکنوں کو زلزلہ زدگان تک رسائی فراہم کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ فوری امداد کے طلب گاروں تک امداد بہم پہنچائی جا سکے۔‘‘

Afghanistan Erdbeben

زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں

اُدھر افغانستان یں قدرتی آفات سے نمٹنے کے خصوصی ادارے کے حکام نے کہا ہے کہ افغانستان میں زلزلے کے مرکز دور افتادہ افغان صوبے بدخشاں اور دیگر ہمسایہ صوبوں تخار اور کُنڑ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

افغان صدر چیف ایگزیکیوٹیو عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق پیر کے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 4 ہزارمکانات تباہ ہوئے ہیں۔ اُن کے بقول، ’’اس زلزلے میں 76 افراد لقمہ اجل بنے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ کم از کم 268 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘‘ عبداللہ عداللہ نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے امکانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

قریب ایک منٹ تک زمین کو ہلا کر رکھ دینے والے اس زلزلے کا مرکز شمال مغربی افغانستان کا علاقہ )جرم( تھا۔ زلزلے نے افغانستان، پاکستان اور بھارت کے کچھ علاقوں کی عمارتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

DW.COM