1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان: دو منتظم، مسائل دوگنا

افغانستان میں اشرف غنی صدر ہیں تو عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکیٹو۔ ماہرین کہتے ہیں کہ دونوں کے درمیان اختلافات ابھی تک موجود ہیں۔ دونوں کی ترجیحات مختلف ہیں اور اسی وجہ سے افغانستان میں بدانتظامی اور بدعنوانی پھیل رہی ہے۔

افغانستان میں بدعنوانی کی روک تھام کی ادارے کے ایک اہلکار نے ایک سال کے دوران ہی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا کیونکہ اسے حکم دیا گیا تھا کہ وہ اہم سیاستدانوں کے معاملات میں قوانین پر عمل پیرا نہ ہو۔ اسی طرح بہت سے سرکاری ملازمین بھی صدر اشرف غنی کی انتظامیہ پر کھلی تنقید کر چکے ہیں۔ افغان خفیہ ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے گزشتہ برس دسمبر میں فیس بک پر اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اسی طرح ابھی حال ہی میں ہلمند صوبے کے ایک سرکاری افسر نے فیس بک پر ہی اعلان کیا تھا کہ طالبان صوبے کے مختلف علاقوں پر قبضہ کی تیاری میں ہیں،’’میں روایتی طریقے اپناتے ہوئے متعدد مرتبہ اعلی حکام کو مطلع کرنے کی کوششیں کرتے کرتے تھک چکا ہوں لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب ہی نہیں آیا‘‘۔

متعدد مقامی ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں پھیلی ہوئی بدعنوانی اور بد انتظامی کے باعث حکومت ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ کابل میں ایک یورپی سفارت کار نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا،’’اس سلسلے میں انہوں نے کوئی دوسرا منصوبہ تیار نہیں کیا ہے،انہیں ایک متبادل منصوبے پر کام کرنا چاہیے‘‘۔ افغان حکومت کو سکڑتی ہوئی اقتصادیات، بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور منقسم سیاسی نظام کا سامنا ہے۔

دو سال کے بعد بھی اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ ابھی تک اپنے اختلافات کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ابھی حال ہی میں یہ دونوں رہنما اپنے دوریاں ختم کرنے کے لیے ایک جگہ جمع ہوئے تھے اور یہ ملاقات پورے دن کے لیے طے تھی تاہم چند گھنٹوں بعد ہی اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کمرے سے باہر آ گئے۔

اشرف غنی پشتون ہیں اور عبداللہ عبداللہ تاجک ہیں اور اس پس منظر کی وجہ سے حکومت بھی دو حصوں میں تبدیل دکھائی دیتی ہے۔ یہ دونوں اعلی سرکاری نوکریوں میں بھی اپنے اپنے لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سیاسی ماہرین کا مطابق اسی وجہ سے سیاسی عمل مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ سیاسی امور کے ماہر ہارون میر کہتے ہیں کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی نظر میں نہ تو تمام وزراء برابر ہیں اور نہ ہی ان دونوں کو وہ جوابدہ ہیں۔