1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: دو مسافر بسوں اور ٹینکر میں تصادم، 73 افراد ہلاک

مشرقی افغانستان میں دو مسافر بسوں اور ایک آئل ٹینکر کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد ہلاک اور درجنوں دیگر بری طرح زخمی ہو گئے۔ یہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران ملک میں پیش آنے والا سب سے ہلاکت خیز حادثہ ہے۔

افغان شہر غزنی سے اتوار آٹھ مئی کو موصولہ مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق آج قبل از دوپہر پیش آنے والے اس خوفناک حادثے میں براہ راست تصادم کے بعد دو نوں مسافر بسوں اور آئل ٹینکر کو آگ لگ گئی تھی۔ محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ مرنے والوں میں کئی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور بسوں اور ٹینکر کو لگنے والی آگ کی وجہ سے بہت سے ہلاک شدگان کی لاشیں اتنی بری طرح جل گئی تھیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں رہی تھی۔

یہ حادثہ صوبے غزنی میں پیش آیا، جس کے بعد درجنوں زخمیوں میں سے متعدد کو، جن میں سے بہت سے افراد کی حالت انتہائی خراب تھی، اس صوبے کے اسی نام کے دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال میں پہنچا دیا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لکھا ہے کہ غزنی کا صوبہ ملکی دارالحکومت کابل سے زیادہ دور نہیں ہے لیکن اس کا شمار افغانستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے، جو طالبان عسکریت پسندوں کی مزاحمت اور مسلح حملوں سے بری طرح متاثر ہیں۔

تصادم کے بعد آتشزدگی کے نتیجے میں دونوں مسافر بسیں اور آئل ٹینکر پوری طرح جل گئے اور کافی دیر تک جلتے ہوئے تیل کا دھواں فضا میں اٹھتا رہا۔ یہ سانحہ کابل قندھار ہائی وے پر پیش آیا، جو افغانستان کے دو سب سے بڑے شہروں کو ملانے والی مرکزی شاہراہ ہے۔

غزنی شہر میں غزنی کی صوبائی وزارت صحت کے ترجمان نے حادثے کے چند گھنٹے بعد اے ایف پی کو بتایا، ’’اب تک ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد بڑھ کر 73 ہو چکی ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ متعدد زخمیوں کی حالت بہت نازک ہے۔‘‘

اس حادثے کے بعد انسانی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں شروع میں بہت متضاد اعداد و شمار ملتے رہے۔ پہلے حکام کی طرف سے 14 ہلاکتوں کا ذکر کیا گیا۔ پھر صوبائی گورنر نے بتایا کہ صرف سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے بعد اسی گورنر کے ترجمان نے تصدیق کی کہ مرنے والوں کی تعداد 50 بنتی ہے۔ پھر صوبائی وزارت صحت کے اعلیٰ حکام نے حتمی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس ہولناک حادثے میں ہلاک شدگان کی تعداد کم از کم بھی 73 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی درجنوں میں ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان نے مزید بتایا کہ زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ان میں سے بہت سے فوری طور پر غزنی کے مرکزی صوبائی ہسپتال پہنچا دیے گئے جبکہ دیگر کو ایمبولنسوں کے ذریعے جنوبی افغان شہر قندھار کے ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق غزنی میں طالبان عسکریت پسندوں کی مسلح کارروائیاں اتنا بڑا مسئلہ ہیں کہ عام طور پر وہاں سے گزرنے والی مسافر بسوں اور مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیور محض اس لیے انتہائی تیز رفتار ڈرائیونگ کرتے ہیں کہ کہیں طالبان شدت پسندوں کے کسی مسلح حملے کی زد میں نہ آ جائیں۔