1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: داعش نے عورتوں اور بچوں سمیت 30 افراد کو ہلاک کر دیا

افغانستان کے وسطی صوبہ غور میں دہشت گرد تنظیم داعش سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ نے 30 کے قریب عام شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ مقامی حکومت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صوبہ غور کے دارالحکومت فیروز کوہ سے شمال کی جانب یہ حملہ منگل کی شب کیا گیا۔ اس علاقے میں ایک روز  قبل اسلامک اسٹیٹ کے ایک کمانڈر کو ہلاک کیا گیا تھا اور صوبائی حکومت کے مطابق داعش کی جانب سے یہ اقدام بطور بدلہ کیا گیا ہے۔

افغان صوبہ غور کے گورنر ناصر قاضح  نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہماری فورسز نے مقامی افراد کی مدد سے ایک آپریشن کے دوران گزشتہ روز داعش کے ایک کمانڈر کو ہلاک کیا تھا۔ داعش کے جنگجوؤں نے بدلے کے طور پر 30 دیہاتیوں کو اغواء کر لیا جن میں سے زیادہ تر گلہ بان تھے۔۔۔ ان کی لاشیں اگلے دن مقامی لوگوں کو ملیں۔‘‘

ابھی تک اس گروپ کی طرف سے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری باقاعدہ طور پر قبول نہیں کی گئی۔ اے ایف پی کے مطابق ان ہلاکتوں سے افغانستان میں سکیورٹی کی نازک صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔ امریکی سربراہی میں افغانستان میں 2001ء میں کیے جانے والے حملے میں طالبان حکومت کے خاتمے کے 15 برس بعد طالبان کی طرف سے ملک کے شہری علاقوں میں حملوں کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے داعش کے جنگجو افغانستان اور خاص طور پر ملک کے مشرقی حصے میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں اور لوگوں کی ہمدریاں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نئے جنگجوؤں کو بھرتی بھی کر رہے ہیں اور اس طرح طالبان کے گڑھ میں ان کی طاقت کو چیلنج کر رہے ہیں۔

Afghanistan Kabul Selbstmordattentat Angehörige (Getty Images/AFP/S. Marai)

رواں برس جولائی میں کابل میں ہونے والے دوہرے بم دھماکوں میں کم از کم 80 افراد ہلاک ہوئے تھے

رواں برس مارچ میں افغان صدر اشرف غنی نے اعلان کیا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں کو شکست دے دی گئی ہے۔ یہ اعلان افغان سکیورٹی فورسز کی طرف سے ایک مہینے تک جاری رہنے والے ایک آپریشن کے بعد کامیابی کے دعووں کے بعد سامنے آیا تھا۔ تاہم داعش کے عسکریت پسندوں کی طرف سے ملک میں خونریز حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

جولائی میں داعش کی طرف سے دارالحکومت کابل میں کیے جانے والے اُس دوہرے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی جس کا شکار ہزارہ شیعہ کمیونٹی بنی تھی اور ان حملوں میں کم از کم 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2001ء کے بعد کابل میں ہونے والا یہ خونریز ترین واحد حملہ تھا۔