1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان حکومت کا طالبان کے ساتھ معاہدہ

افغان حکومت کے مطابق شمال مغربی صوبے بادغیس میں کابل حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کی رو سے طالبان انتخابی عمل کو متاثر نہیں کریں گے۔

default

بیس اگست کے صدارتی انتخابات کو ہر ممکن طریقے سے کامیاب بنانے کی کوششیں جاری ہیں

Egon Ramms mit Hamid Karzai und Dan McNeill

افغان صدر حامد کرزئی اور نیٹو افسران


افغانستان کی وفاقی حکومت کے مطابق ملک کے شمال مغربی صوبے بادغیس کے قبائلی عمائدین نے کابل حکومت کی ایماء پر مقامی طالبان کو اس بات پر قائل کر لیا ہے کہ وہ بیس اگست کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں رخنہ نہیں ڈالیں گے۔ کابل حکومت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس معاہدے کی رو سے طالبان اپنے زیرِ قبضہ کئی اہم علاقوں کا کنٹرول حکومت کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

طالبان کی جانب سے ابھی تک اس معاہدے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ بعض خبر رساں اداروں کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان یوسف احمدی نے معاہدے کی تردید کی ہے۔

Taliban, Archivbild

بعض خبروں کے مطابق طالبان نے صدر کرزئی کی جانب سے امن کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے


افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان سیامک ہراوی کے مطابق بادغیس کے ضلع بالا مرغاب میں جاری لڑائی ہفتہ کے روز فائر بندی کے معاہدے کے بعد روک دی گئی اور اس معاہدے کو ممکن بنانے کے لئے علاقے کے ’بزرگوں‘ نے کردار ادا کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے بیس دن تک مذاکرات کئے گئے۔

صدارتی ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ معاہدہ دوسرے صوبوں کے لئے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغربی افغانستان میں تعینات افغان کمانڈر جالندر شاہ نے تصدیق کی ہے کہ طالبان کے قبضے سے چھڑائے جانے والے تین علاقوں سے فوجیں نکال لی گئی ہیں۔

Afghanistan 8000 Tote im vergangenen Jahr

انتخابات سے قبل ملک بھر میں پر تشدّد کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے

واضح رہے کہ بیس اگست کو افغان عوام اپنے صدر کے انتخاب کے لئے ووٹ ڈالیں گے اور امریکہ اور مغربی ممالک کی کوشش ہے کہ طالبان کو ان انتخابات میں خلل ڈالنے سے ہر حال میں روکا جائے۔ ایک طرف برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کہہ چکے ہیں کہ ’اعتدال پسند‘ طالبان سے بات چیت کرنا ضروری ہے تو دوسری طرف برطانوی افواج نے طالبان کے خلاف پانچ ہفتوں سے ملک کے جنوب میں ’آپریشن پینتھر کلاء‘ شروع کر رکھا تھا جس کے بارے میں برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے پیر کے روز کہا کہ یہ آپریشن کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔

برطانوی افواج بھی اگرچہ اب یہ اعلان کر چکی ہیں کہ صوبے ہلمند میں اس آپریشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے، تاہم انہی فوجی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس آپریشن میں کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ طالبان کے خلاف حتمی فتح حاصل ہو گئی ہے۔

بیک وقت ’معتدل‘ طالبان کے ساتھ معاہدے اور فوجی کارروائیاں امریکہ اور نیٹو کی اس پالیسی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے صدارتی انتخابات کو بغیر تشدد کے ممکن بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ معاہدوں اور فوجی کارروائیوں میں کامیابی کے دعووں کے باوجود نیٹو اور افغان حکومت آزاد، شفاف اور تشدد سے پاک انتخابات کو کس حد تک ممکن بنا سکیں گے۔

DW.COM