1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان حالیہ پارلیمانی انتخابات: ڈوئچے ویلے کا تبصرہ

افغانستان میں ستمبر کی 18 تاریخ کو نئی پارلیمان کا انتخاب عمل میں آیا تھا مگر عبوری سرکاری نتائج کہیں اب جا کر سامنے آئے ہیں۔ ان سے پتہ چل رہا ہے کہ حالیہ الیکشن میں کون جیتا کون ہارا: جیت محض وار لارڈز کی ہوئی ہے۔

default

اب وہ راز فاش ہو گیا ہے جو دراصل راز تھا ہی نہیں۔ افغانستان کا ولوسی جرگہ، جو پارلیمان کا ایوان زیریں بھی ہے، آئندہ پانچ سالوں تک وار لارڈز کے ہاتھوں میں ہوگا۔ تقریباً تمام انتخابی حلقوں سے سابقہ مجاہدین لیڈر اور اُن کے ہمدرد ہی کامیاب ہو کر آگے آئے ہیں۔ خود کابل میں، جو90 کے عشرے کے اوائل میں مجاہدین کے مختلف گروپوں کے مابین ہونے والی گھمسان کی جنگ میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا، اب مجاہدین ہی ایوانوں میں براجمان ہیں۔

Menschen in Afghanistan

افغانستان کے عوام ملک میں جمہوریت کے منتظر

افغانستان میں ان انتخابات کے نتائج سے شاید ہی کسی کو تعجب ہوا ہو۔ بہت سے افغان شہری انتخابات کے انعقاد سے پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ انہیں ملک کے نام نہاد ’آزاد الیکشن کمیشن‘ پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ اس کے باوجود افغان شہریوں کا ایک حصہ گزشتہ ماہ کے انتخابات میں ووٹ دینے کے لئے انتخابی مراکز پر پہنچا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وہ اپنے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے کس قدر سنجیدہ ہیں۔ وہ دنیا کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ افغانستان کے عوام جنگ، طالبان اور انتہا پسندی کو رد کرتے ہیں۔ بہت سے افغان باشندوں کو تو شاید ابھی تک اس بات کا علم ہی نہیں کہ جمہوریت کیا ہوتی ہےاور پارلیمان کس طرح کام کرتی ہے۔ تاہم ایک بات کا انہیں مکمل ادراک ہے۔ وہ یہ کہ ’طاقت کی ہر پُرامن رسہ کشی جنگ سے بہت بہتر ہے کیونکہ جنگ کا تجربہ افغان عوام کو گزشتہ 30 برسوں سے ہو رہا ہے۔

Mohammed Omar Gouverneur von Kundus Afghanistan

حامد کر زئی وار لارڈز کے تعاون سے سیاسی نظام کی تشکیل میں مصروف

ان سب باتوں کے باوجود اِس ملک میں کوئی بھی اس قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا نہیں ہے کہ حالیہ انتخابات کے بعد وہاں کی نا گفتہ بہ صورتحال میں کوئی تبدیلی رونما ہو گی۔ اُن کا ایک ہی مقصد ہے۔ وہ یہ کہ اپنے ذاتی اختیارات اور سیاسی طاقت کو مضبوط سے مضبوط تر کیا جائے۔ جیسے جیسے عالمی برادری افغانستان سے پیچھے ہٹتی جائے گی، ویسے ہی اس طاقت میں اضافہ ہوگا۔ بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی کے لئے اقتدار میں رہنا مشکل ہو جائے گا جبکہ ہوگا اس کے برعکس۔ صدر کرزئی ایک عرصے سے مجاہدین کے کہنے پر چل رہے ہیں۔ گزشتہ برس عالمی اور قومی تنقید کے باوجود انہوں نے اپنے دونوں نائب صدور کو مجاہدین رہنماؤں کے گروپ سے چنا تھا۔

کرزئی سے کہیں زیادہ اُن چھوٹے چھوٹے جمہورت پسند گروپوں کو حالیہ انتخابات میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو متنازعہ قوتیں سمجھے جاتے ہیں۔ یہ گزشتہ نو سال میں چند ایک بنیادی مقاصد پر اتفاق رائے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ ایسا کرنے کے بجائے انہوں نے لاتعداد چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیاں بنا لیں، جو افغانستان کے سیاسی منظر نامے پر دور دور بھی باوزن سیاسی قوتوں کی حیثیت سے نظر نہیں آتیں۔

Flash-Galerie Afghanistan , Land und Leute

افغانستان میں معاشی اور معاشرتی مسائل اب بھی حل طلب

افغانستان کے حالیہ انتخابات کے شکست خوردہ عناصر میں سے ایک عالمی برادری بھی ہے، جس نے اس ملک میں جمہوریت، امن اور خوشحالی کے وعدے کئے تھے۔ تقریباً ایک دہائی کے بعد بھی افغانستان کی باگ ڈور طالبان اور سابقہ وار لارڈز کے ہاتھوں ہی میں ہے۔ تاہم افغانستان کو دوبارہ طالبان اور وار لارڈز کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کا مطلب ہے، اس خطے اور پوری دنیا کو غیر محفوظ بنانا۔

تبصرہ: رتبیل شامل

ترجمہ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM