افغانستان: جرمن سفارت خانہ کنٹینر میں کام شروع کرے گا | حالات حاضرہ | DW | 13.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: جرمن سفارت خانہ کنٹینر میں کام شروع کرے گا

افغانستان کے لیے جرمن سفارت خانہ رواں برس موسم گرما میں دوبارہ کام شروع کرے گا۔ تاہم یہ جرمن سفارت خانہ ابتدائی طور پر کنٹینروں میں قائم کیا جائے گا۔ کابل میں قائم جرمن ایمبیسی ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد سے بند ہے۔

افغان دارالحکومت کابل میں گزشتہ برس مئی کے آخر میں ہونے والے دہشت گردانہ ٹرک بم حملے میں چار سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دھماکے کے سبب جرمن اور فرانسیسی سفارت خانے بھی متاثر ہوئے تھے۔ جرمن وزارت خارجہ کی طرف سے اُس وقت تصدیق کی گئی تھی کہ ٹرک بم دھماکے کے سبب سفارت خانے کی عمارت کے باہر موجود افغان سکیورٹی گارڈ مارا گیا جبکہ عملے کے دیگر مقامی ارکان بھی زخمی ہوئے تھے۔  اس حملے کے بعد کابل میں قائم جرمن سفارت خانہ بند کر دیا گیا تھا۔

تاہم اب جرمن حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ رواں برس موسم گرما میں افغانستان کے لیے جرمن سفارت خانہ کابل میں کنٹینرز میں کھول دیا جائے گا۔ یہ بات جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل نے اپنی ہفتہ 13 جنوری کی اشاعت میں بتائی ہے۔

Afghanistan deutsche Botschaft in Kabul

ٹرک بم حملے کے سبب جرمن اور فرانسیسی سفارت خانے بھی متاثر ہوئے تھے

میگزین کی رپورٹ کے مطابق کابل میں سفارت خانے کی نئی عمارت کی تعمیر پر چار سال تک کا عرصہ درکارر ہو گا۔ اس لیے جرمن سفارت خانے کو مکمل طور پر فعال ہونے کے لیے چار برس تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

افغان دارالحکومت کابل میں تعینات جرمن سفیر والٹر ہاسمان ان دنوں امریکی سفارت خانے میں بہت کم اسٹاف کے ساتھ دفتری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جرمن وزارت خارجہ نے ڈیئر اشپیگل کی رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔