1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان جانے والی اشیاء پر ٹیکس نافذ

پاکستانی صوبہ سندھ نے افغانستان جانے والے تجارتی سامان پر ٹیکس متعارف کروادیا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف برسرپیکار مغربی دفاعی اتحاد کی سپلائی اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔

default

سندھ اسمبلی

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کی حکومت کے مطابق یہ نیا محصول دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے مطابق ہے۔ واضح رہے کہ صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی پاکستان کا بندرگاہی شہر ہے جہاں سے نیٹو افواج کے لیے آنے والی سپلائی بذریعہ سڑک افغانستان روانہ کی جاتی ہے اور جو خطے میں بین الاقوامی تجارت کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل شہر ہے۔

سندھ کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن مُکیش چاؤلہ کے بقول ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے کے مطابق زمینی و فضائی راستوں سے جانے والے تمام تجارتی سامان پر یہ ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔

Afghanistan Pakistan Handelsabkommen Ahady Fahi Clinton

پاکستانی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم اپنے افغان ہم منصب انوار الحق احدی کے ہمراہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ کرتے ہوئے، فائل فوٹو

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے سے بات چیت میں چاؤلہ نے کہا کہ افغانستان جانے والی ہر چیز پر اس کی قدر کا اعشاریہ صفر آٹھ 0.08 فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا ہے جس سے پاکستان کو سالانہ کم از کم پانچ ارب روپے ’5.62 ملین ڈالر‘ حاصل ہوں گے۔

واضح رہے کہ کراچی کی بندرگاہ گزشتہ 10 سال سے افغانستان میں متعین نیٹو افواج کی سپلائی کا اہم ذریعہ ہے۔ 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہ سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان کے سابق فوجی حکمراں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت 1999ء تا 2008ء میں نیٹو کی سپلائی کو ہر قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے اس فیصلے کو اپوزیشن نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

Parkistan Politik Musharraf

جنرل مشرف نے نیٹو سپلائی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا تھا

سندھ کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن مکیش چاؤلہ کے بقول نیٹو سپلائی پر اب بھی ٹیکس اسی لیے نہیں نافذ کیا گیا کیونکہ یہ طویل عرصے سے جاری پالیسی کا تسلسل ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے ایوان بالا، سینٹ کی ایک کمیٹی نیٹو سپلائی پر ٹیکس نافذ کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال سیلاب کے سبب لگ بھگ 10 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا تھا۔ کئی بین الاقوامی ادارے کے قرضوں تلے دبی پاکستانی حکومت اپنے ریوینیو میں اضافے کی جستجو میں مصروف ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM