1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان: تین مزید غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکت

افغانستان میں نیٹو کے آئی سیف دستوں کے تین فوجیوں سمیت پانچ افغان پولیس اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ مرنے والے غیر ملکی فوجیوں کا تعلق امریکہ،برطانیہ اور پولینڈ سے ہے۔

default

نیٹو کی آئی سیف فوجی: فائل فوٹو

افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجی تین مختلف مقامات پر بم دھماکوں کی زَد میں آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے نصب یہ بم افغانستان میں شمالی، جنوبی اور مشرقی حصوں میں گشتی گاڑیوں کے راستے میں آئے اور ان کے پھٹنے سے کم از کم تین غیر ملکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ نیٹو کی جانب سے ہلاک ہونے فوجیوں کی قومیتوں کے اعلان تو نہیں کیا گیا البتہ ان کے ممالک کی طرف سے اعلان سامنے آ گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک فوجی امریکی ہے، جو شمالی افغانستان میں بم دھماکے کا نشانہ بنا۔ پولینڈ کی وزارت دفاع کے مطابق اس کا ایک فوجی غزنی میں بم پھٹنے کے ایک واقعے میں

Afghanistan Großbritannien Soldat in Provinz Helmand Dorf

ہلمند میں ایک مقام پر کھڑا آئی سیف میں شامل ایک برطانوی فوجی

مارا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ پولینڈ کے آٹھ فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تیسرےغیر ملکی فوجی کی قومیت کے حوالے سے برطانوی وزارت دفاع کا اعلان سامنے آ گیا ہے۔ اس طرح افغانستان میں ہلاک ہونے والا یہ 295 واں برطانوی فوجی ہے۔

افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار کی پولیس کے سربراہ شیر محمد زازی کے مطابق قندھار کے خاکریز ضلع میں پولیس کی ایک گاڑی سڑک کنارے نصب ایک بم کے دھماکے کا شکار ہو گئی۔ اِس دھماکے کے باعث کم از کم پانچ پولیس اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ دس دوسرے افراد شدید زخمی بتائے گئے ہیں۔

شیر محمد زازی کے مطابق طالبان کے ایک خفیہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس خفیہ پناہ گاہ میں کم از کم نو طالبان جنگجوؤں کو مار دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب طالبان انتہاپسندوں کے ہاتھوں صوبے پکتیکا میں ایک غیر ملکی تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے والے چار اہلکاروں کو قتل کرنے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔

افغان صوبوں غزنی اور خوست میں کئی مقامات پر تلاشی کا عمل بھی جاری ہے۔ خاص طور پر خوست میں طالبان کے حقانی گروپ کے لئے کام کرنے والے ایک ماہر بم ساز کو ڈھونڈا جا رہا ہے، جو مقامی طور پر بم سازی کے عمل کا ایک اہم رکن بتایا جاتا ہے۔ غزنی ہی میں مشتبہ زہریلی گیس کے ایک حملے سے متاثر ہونے والی پچاس طالبات کو ہسپتال داخل کروا دیا گیا ہے۔

عالمی منظر نامے پر گزشتہ روز نیٹو کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں افغانستان کی صورت حال پر غوروخوص کیا گیا۔ ایک اور تازہ پیش رفت یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے کابل منعقدہ مرکزی جرگے کے بعد بلیک لسٹ افراد کے ناموں پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ بلیک لسٹ افراد کی تعداد بارہ سو سے زائد ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM