1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

افغانستان : بہبود خواتین کے مراکز حکومتی انتظام میں دینے کی فیصلے کی مخالفت

ایک ایسے ملک میں، جہاں خاندان اب بھی اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنے سے اجتناب کرتے ہیں، گھروں سے فرار ہو جانے والی خواتین کو پناہ دینا ایک پُرخطر کام ہے تاہم شمالی افغانستان میں ایک با ہمت شخص یہ کام سرانجام دے رہا ہے۔

default

افغانستان کے شہر مزار شریف کے رہائشی، افغان حامد صفوت 1997ء سےخواتین کو پناہ دے رہے ہیں۔

شمالی افغانستان میں قائم خواتین کو جائے پناہ فراہم کرنے والے دو اداروں میں سے ایک، صفوت کارپوریشن سینٹر برائے افغانستان ہے۔ افغان صوبے بلخ میں اس ادارے کے قائم کردہ دارالامان میں آج کل 26 خواتین پناہ لئے ہوئے ہیں، جن کے ہمراہ چار بچے بھی ہیں۔

یہ ادارہ ایسی خواتین کو پناہ دیتا ہے، جو اپنے شوہر، والد یا بھائیوں کی جانب سے بدسلوکی یا زبردستی یا بچپن میں کی گئی شادیوں سے فرار حاصل کرنے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ دیتی ہیں۔

Symbolbild Zwangsheirat

ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق افغانستان میں 60 سے80 فیصد خواتین کی شادی ان کی مرضی کے خلاف ہوتی ہیں

پناہ کی تلاش میں آئی ان خواتین کا دکھ درد بانٹنے کے باعث 35 سالہ صفوت کو اکثر و بیشتر دھمکیاں بھی ملتی رہتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں،"انہیں کئی دفعہ پولیس ہی نہیں بلکہ جنگی سرداروں، سابق مجاہد کمانڈرز اور قبائلی رہنماؤں کی جانب سے بھی قتل کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں"۔

تاہم صفوت کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں سے زیادہ وہ ایک حکومتی فیصلے سے خوفزدہ ہیں۔ صرف صفوت ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں اُنہی کی طرح فلاح و بہبود کے کاموں سے وابستہ دیگر افراد بھی اس کوشش میں ہیں کہ حکومت اپنا کیا گیا یہ فیصلہ واپس لے۔

وہ فیصلہ یہ ہے کہ خواتین کو پناہ فراہم کرنے والے وہ تمام ادارے حکومت کی سر پرستی میں دے دیے جائیں، جو غیر سرکاری تنظیموں کے ماتحت کام کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ غیر ملکی امداد بھی حاصل کرتے ہیں۔

تین بیٹوں کے والد صفوت کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں مسئلہ یہ ہے کہ کابل حکومت صرف شہروں میں کام کرتی ہے۔ صفوت کے مطابق، "ہمارے پاس آنے والے زیادہ کیسز افغانستان کے دور دراز دیہات سے آتے ہیں، جہاں حکومت کا کوئی وجود نہیں ہے۔ حکومت اور عوام کے درمیان ایک مخصوص فاصلہ یا دوری موجود ہے"۔

Flash-Galerie UN Millennium Ziele 2 Schulbildung

افغانستان میں آج بھی لڑکیوں کا اسکول جانا معیوب سمجھا جاتا ہے

صفوت کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس نئے قانون کے باعث معاشرے کے غیر محفوظ اور کمزور طبقے پناہ کے اِن مراکز تک رسائی سے محروم ہو جائیں گے۔

اس نئے قانون کے مطابق خواتین کو حکومتی پینل کے سامنے گھر سے فرار ہونے کی وجہ کی نہ صرف وضاحت کرنا ہو گی بلکہ انہیں میڈیکل امتحان سے بھی گزرنا ہو گا، جس میں دوشیزگی کے حوالے سے بھی ان کا چیک اپ کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی ان کو اجازت ہو گی کہ وہ دارالامان میں رہ سکیں۔

دوسری جانب گزشتہ ہفتے افغان صدر حامد کرزئی نے اس قانون کو لاگو کرنے کے اپنے فیصلے کا پُر زور اعادہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر ملک میں قائم اکا دکا پناہ گاہوں پر الزام عائد کیا کہ وہ مبینہ طور پر غیر مناسب طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بات بھی بتائی کہ حکومت ملک میں موجود پناہ کے سبھی مراکز کو حکومتی تحویل میں نہیں لے رہی۔

افغان صدر کا اصرار ہے کہ کابل ان افغان خواتین کی حفاظت کے قابل ہے تاہم بہت سے لوگوں کے خیال میں یہ قانون سخت خیالات کے حامل افراد کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ سخت نطریات کے حامل افراد کی جانب سے یہ الزام اکثر عائد کیا جاتا ہے کہ خواتین کو جائے پناہ فراہم کرنے والے یہ ادارے خواتین کے گھروں سے فرار ہونے کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ ’مغربی طرز کی‘ گمراہی کی جانب بھی راغب کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM